مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 435 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 435

مضامین بشیر جلد سوم پرستار کی صالح نیت کی بناء پر کس شان اور کس زور کے ساتھ فرماتا ہے کہ: 435 لَا تَيْتَسُوا مِنْ رَّوح اللهِ (يوسف: 88) إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا(الزمر: 54) یعنی اے مومنو! خدا کی رحمت سے کسی صورت میں بھی مایوس نہ ہوا کرو۔۔۔تمہارا خدا سارے گناہوں کو معاف کر سکتا ہے۔مگر شرط وہی ہے کہ اِنَّ الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّيَاتِ (هود: 115)۔یعنی نیکیوں کے پانی سے گناہ کی آگ کو بجھاتے چلے جاؤ اور خدا کے دامن سے چمٹے رہو۔اسی تعلق میں مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک نہایت لطیف حوالہ ملا ہے۔جس سے روح گویا وجد میں آکر جھومنے لگتی ہے۔حضور خدائی رحمت و بخشش کی وسعت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: میں پھر نصیحت کرتا ہوں کہ تم اپنے نفسوں کا مطالعہ کرو۔ہر ایک بدی کو چھوڑ دو۔لیکن بدیوں کو چھوڑ دینا کسی کے اختیار میں نہیں۔اس واسطے راتوں کو اٹھ اٹھ کر تہجد میں خدا کے حضور دعائیں کرو۔وہی تمہارا پیدا کرنے والا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ۔پس اور کون ہے جوان بدیوں کو دور کر کے نیکیوں کی تو فیق تم کو دے۔بعض لوگ کم ہمت ہوتے ہیں۔تم ایسے مت بنو۔کئی خطوط میرے پاس آتے ہیں وہ لکھتے ہیں کہ ہم نے بہت نماز وظیفہ کیا مگر کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔ایسا آدمی جو تھک جائے نامرد اور مخنث ہے۔یادرکھو گر نه باشد باشد بد شرط عشق است در دست ره براں طلب مراں جو شخص جلدی گھبرا جائے وہ مرد نہیں۔کسی بات کی پرواہ نہ کرو خواہ جذبات پہلے سے بھی زیادہ جوش ماریں پھر بھی مایوس نہ ہو۔یقیناً خدارحیم، کریم اور حلیم ہے۔وہ دعا کرنے والے کو ضائع نہیں کرتا۔تم دعا میں مصروف رہو اور اس بات سے مت گھبراؤ کہ جذبات انسانی کے جوش سے گناہ صادر ہو جاتا ہے۔وہ خداس کا حاکم ہے۔وہ چاہے تو فرشتوں کو بھی حکم کر سکتا ہے کہ تمہارے گناہ نہ لکھے جائیں۔( تقریر جلسہ سالانہ 1906 ، مطبوعہ بدر 10 جنوری 1907ء) یہ لطیف تحریر انسان کی طرف سے مجاہدہ اور خدا کی طرف سے مغفرت کے فلسفہ کی جان ہے۔کیونکہ مجاہدہ یعنی اعمال صالحہ کی شب و روز کوشش کی وجہ سے انسان طبعا گناہ پر دلیر ہونے سے ڈرتا اور خوف کھاتا ہے۔اور دوسری طرف خدائی مغفرت کا تصور اسے لازماً مایوس ہونے سے بچاتا ہے اور کوشش ترک کرنے سے باز رکھتا ہے۔یہی وہ حقیقت ہے جس کے متعلق کہا گیا کہ الايْمَانُ بَيْنَ الرَّجَا وَ الْخَوْنِ یعنی