مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 434 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 434

مضامین بشیر جلد سوم 434 گا۔اور میری بخشش اور میری عنایات کا پرچم ہمیشہ بلند و بالا ہو کر لہراتا رہے گا اور کبھی سرنگوں نہ ہوگا۔چنانچہ اس عدیم المثال رحمت خداوندی کی تشریح میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوسری حدیث میں فرماتے ہیں کہ : يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي زُمْرَةٌ هُمْ سَبْعُونَ أَلْفاً لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ تُضِيُّ وُجُوهُهُمْ إِضَاءَةَ الْقَمَر لَيْلَةَ الْبَدْر ( صحیح مسلم کتاب الایمان ) یعنی میری امت میں سے ستر ہزار انسان بغیر کسی حساب کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ان کے چہرے اس طرح چمکتے ہوں گے جس طرح کہ چودھویں رات میں چاند چمکتا ہے۔اس لطیف حدیث میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ حضرت افضل الرسل رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی فیض اتنے کمال کو پہنچا ہوا ہے اور آپ کی روحانی تاثیرات اتنی بلند پایہ ہیں کہ آپ کی امت میں سے ستر ہزار انسان (جس سے عربی محاورہ کے مطابق بے شمار تعداد مراد ہے ) ایسے روحانی مرتبہ پر فائز ہوں گے اور ان کے لئے خدائی فضل و کرم اس قدر جوش میں ہوگا کہ قیامت کے دن ان کے حساب و کتاب کی ضرورت نہیں سمجھی جائے گی۔اور وہ گویا بغیر امتحان کے ہی پاس شمار کئے جائیں گے۔اور ضمناً اس حدیث میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اس پاک گروہ کی عام بشری کمزوریاں اور معمولی انسانی لغزشیں، ان کی غیر معمولی دینی خدمات اور ان کے قلبی تقوی وطہارت کی وجہ سے نظر انداز کر دی جائیں گی۔یہ وہی ابدی فلسفہ مغفرت ہے جو قرآن مجید نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ إِنَّ الْحَسَنتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاتِ (هود: 115) یعنی خدا تعالیٰ نے مثبت نیکیوں میں یہ تاثیر رکھی ہے کہ وہ انسانی کمزوریوں اور کوتاہیوں کو اس طرح بہا کر لے جاتی ہیں جس طرح کہ پانی کا تیز دھاراخس و خاشاک کو بہا کر لے جاتا ہے اور اس کا نام ونشان تک نہیں چھوڑتا۔الغرض اسلام میں خدائی رحمت کو اتنی وسعت حاصل ہے کہ اس کا کوئی حد و حساب نہیں۔اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ خدائی رحمت کے دو پہلو ہیں۔ایک نیک جزاء اور انعام واکرام کی عدیم المثال افزائش اور دوسرے بخشش وستاری اور عفو و مغفرت کا اکمل ترین اظہار۔رحمت کے یہ دونوں پہلو خدائے اسلام میں اس درجہ اتم صورت میں پائے جاتے ہیں کہ کسی دوسرے مذہب میں اس کی مثال نہیں ملتی۔چنانچہ عیسائیوں نے تو گناہ کی معافی کے سوال کو خدائی عدل کے منافی سمجھ کر کفارہ کے غیر طبعی عقیدہ میں پناہ لی اور ہندوؤں نے خدائی بخشش کو محدود قرار دیتے ہوئے تناسخ کا ظالمانہ عقیدہ ایجاد کیا اور نسل انسانی کو اواگون کے چکر میں پھنسا کر بیٹھ گئے۔لیکن اسلام کا خدا اپنی رحمت کی وسعت اور انسان کی مثبت نیکیوں کی زبر دست تاثیر اور سچے