مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 431 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 431

مضامین بشیر جلد سوم 431 وقت نصف شب اور فجر کی نماز کے درمیان کا وقت ہے۔(7) رمضان کے مہینہ میں صدقہ و خیرات اور غریبوں اور مساکین اور یتامیٰ اور بیوگان کی امداد حسب توفیق زیادہ سے زیادہ کرنی چاہئے۔حدیث میں آتا ہے کہ رمضان کے مہینہ میں ہمارے آقا رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ غریبوں کی امداد میں ایک ایسی تیز آندھی کی طرح چلتا تھا جو کسی روک کو خیال میں نہیں لاتی۔رمضان کا یہ صدقہ و خیرات فدیہ رمضان اور صدقۃ الفطر کے علاوہ ہے۔(8) جن لوگوں کو توفیق ہوا اور فرصت مل سکے اور حالات موافق ہوں ان کے لئے رمضان کے آخری عشرہ میں مسجد کے اندر اعتکاف بیٹھنا موجب ثواب ہے۔یہ ایک قسم کی وقتی اور محدود رہبانیت ہے جس کے ذریعہ انسان دنیا سے بکلی طور پر نہ کٹنے کے باوجود انقطاع الی اللہ کا ثواب حاصل کرتا ہے۔اعتکاف میں دن رات مسجد میں بیٹھ کر عبادت اور ذکر الہی اور دعاؤں اور تلاوت قرآن مجید اور دینی مذاکرات میں وقت گزارنا چاہئے اور نیند کو کم سے کم حد میں محدود رکھنا چاہئے۔رفع حاجت یعنی پیشاب، پاخانہ کے لئے مسجد سے باہر جانے کی اجازت ہے اور رستہ میں کسی مریض کی مختصر سی عیادت کرنے میں بھی حرج نہیں۔(9) رمضان کے آخری عشرہ میں اور خصوصاً اس کی طاق راتوں میں ایک رات ایسی آتی ہے جو خدا تعالیٰ کی خاص الخاص برکتوں سے معمور ہوتی ہے اسے لیلۃ القدر یعنی بزرگی والی رات کہتے ہیں۔اس میں دعا ئیں بہت زیادہ قبول ہوتی ہیں اور رحمت کے فرشتے مومنوں کے قریب تر ہو جاتے ہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ آخری عشرہ کی راتوں میں زیادہ سے زیادہ دعائیں کی جائیں۔اور نوافل پر زیادہ زور دیا جائے۔اور رات کی مُردہ تاریکی کو روحانی زندگی کے نور سے بدل دیا جائے۔لیلۃ القدر گویا خدا کی طرف سے مومنوں کے لئے اختتام رمضان کا ایک مبارک ہدیہ ہے۔(10) عیدالفطر سے قبل غرباء کی امداد کے لئے صدقۃ الفطر ادا کرنا ضروری ہے۔اس کی مقدار ایک صاع گندم یا نصف صاع گندم کے حساب سے مقرر ہے۔جو گھر کے ہر مرد و عورت اور ہر لڑکے لڑکی بلکہ بے تنخواہ کام کرنے والے نوکروں تک کی طرف سے بھی ادا کرنی لازم ہے۔یہ رقم گندم کی رائج الوقت قیمت کا اندازہ ہونے پر مقامی محصلوں کو ادا کرنی چاہئے۔تا کہ مناسب انتظام کے ساتھ اچھے وقت پر غرباء میں تقسیم ہو سکے۔وَتِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ -