مضامین بشیر (جلد 3) — Page 427
مضامین بشیر جلد سوم 427 (2) دوسری بات آپ یہ پوچھتے ہیں کہ کیا کوئی مومن کسی اوپر کے درجہ پر پہنچ کر پھر نیچے بھی گر سکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک ایسا ہوسکتا ہے کیونکہ ایمان بڑھتا بھی ہے اور گھٹتا بھی ہے۔خود قرآن مجید نے بلعم باعور کے متعلق فرمایا ہے: لَوْشِعُنَا لَرَفَعْنَهُ بِهَا وَلَكِنَّةٌ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ (الاعراف: 177) یعنی اگر وہ ہماری مشیت کے راستہ پر چلتا رہتا تو ترقی کر جاتا مگر وہ آسمان کو چھوڑ کر زمین کی طرف جھک گیا۔اسی طرح ان لوگوں کا حال ہے جو ایمان اور اخلاص کا ایک درجہ پالینے کے بعد پھر کسی ابتلاء میں پڑ کر مرتد ہو جاتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بعض لوگ ایمان لانے کے بعد مرتد ہو گئے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بھی بعض لوگوں نے ایمان حاصل کرنے کے بعد ارتداد کا رستہ اختیار کیا۔یہ سب مثالیں اس بات کی دلیل ہیں کہ ایمان حاصل کرنے کے بعد انسان گر سکتا ہے اور عقلاً بھی یہی درست ہے اور ایسا ہی ہونا چاہئے ورنہ یہ لوگ غافل ہوکر بیٹھ جائیں۔البتہ ایمان کا اعلیٰ مقام ضرور ایسا ہوتا ہے کہ وہاں تک پہنچ کر انسان گویا خدا کے فضل سے محفوظ ہو جاتا ہے اور کوئی ابتلاء اسے لغزش میں مبتلا نہیں کر سکتا۔مگر عام حالات میں انسان کے لئے ایمان کے رستہ میں آگے بڑھنے یا نیچے گرنے یا ایک وقت تک ترقی سے رکے رہنے کے پہلو موجود ہیں۔اس لئے انجام بخیر ہونے کی دعا سکھائی گئی ہے۔ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بعض لوگ نیک اعمال کرتے کرتے گویا جنت کے دروازہ پر پہنچ جاتے ہیں۔لیکن پھر ان کی کوئی مخفی شقاوت قلبی انہیں وہاں سے واپس لوٹا کر دوزخ کے راستہ پر ڈال دیتی ہے۔یہ بھی ایمان کے بڑھنے اور گھٹنے کی ایک بین دلیل ہے۔(3) تیسر اسوال آپ کا یہ ہے کہ ایسا شخص جسے بعض مجبوریوں کی وجہ سے یا بعض لوگوں کی دست درازی کے نتیجہ میں یا صحبت بد کی وجہ سے دین و دنیا میں ترقی کا موقع نہیں ملا۔اس کے لئے قرآن مجید کیا علاج تجویز کرتا ہے؟ سواس سوال کا جواب تو صاف ہے کہ قرآن مجید نے انسان کو ہر صورت میں مجاہدہ کا حکم دیا ہے اور مجاہدہ کی مختلف اقسام ہیں۔یعنی اپنے نفس کے ساتھ مجاہدہ ، اپنے بدر فیقوں یا مخالف لوگوں کے ساتھ مجاہدہ اور ناموافق حالات کے ساتھ مجاہدہ۔پس ایسے شخص کا یہی علاج ہے کہ وہ ہر آن مجاہدہ میں لگا رہے اور اپنے