مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 425 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 425

مضامین بشیر جلد سوم 425 ہوتا ہے جو اپنے حالات کے لحاظ سے بعد میں روزوں کی گنتی پوری کرنے کی امید نہ رکھتے ہوں۔مگر بعض اولیاء اور صوفیاء کا یہ طریق بھی رہا ہے کہ بعد میں گنتی پوری کرنے کی امید رکھنے کے باوجود وہ فدیہ بھی ادا کرتے رہے ہیں۔پس اگر کسی صاحب کو توفیق ہو تو روحانی لحاظ سے ( نہ کوئی فریضہ کے طور پر ) یہ طریق زیادہ ثواب کا موجب ہے اور اس میں ڈہری نیکی ہے۔کہ چونکہ زندگی کا اعتبار نہیں فدیہ بھی دے دیا اور پھر توفیق پانے پر دوسرے ایام میں گنتی بھی پوری کر لی۔بالآخر یہ خاکسارا اپنے احباب کی خدمت میں پھر دوبارہ عرض کرنا چاہتا ہے کہ رمضان ایک نہایت ہی مبارک مہینہ ہے۔اس کی برکات سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔اور نوافل اور ذکر الہی اور دعاؤں کے ذریعہ خدا تعالیٰ کے قریب تر ہو جائیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق حدیث میں کیا پیارا فقرہ آتا ہے کہ ”اخبى لَيْلَةٌ یعنی آپ نوافل اور ذکر الہی اور دعاؤں کے ذریعہ رات جیسی تاریک اور مُردہ اور غافل گھڑی کو بھی زندگی کے انوار سے معمور کر دیتے تھے۔اَللهُمَّ صَلَّ عَلَيْهِ وَ بَارِكُ وَسَلِّمُ - ( محررہ 2 اپریل 1957 ء ) (روزنامہ الفضل ربوہ 4 اپریل 1957ء) ایک دوست کے چند سوالوں کا دوحرفی جواب کیا ایمان بڑھتا گھٹتا ہے؟ ایسی نیکی سے کیا حاصل ہے جس کا کوئی نتیجہ نہ پیدا ہو؟ ( ضلع لاہور کے ایک دوست نے بعض سوالات لکھ کر پوچھے ہیں جن کا مختصر سا جواب انہیں خط کے ذریعہ بھجوا دیا گیا ہے۔اور اب یہ جواب دوسرے دوستوں کے فائدہ کے لئے الفضل میں شائع کرایا جاتا ہے۔) مکرمی و محترمی السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ آپ کا خط موصول ہوا۔میرے لئے اس وقت ان سوالوں کا مفصل جواب دینا مشکل ہے اور میں بیمار