مضامین بشیر (جلد 3) — Page 419
مضامین بشیر جلد سوم 419 حضرت ڈاکٹر سید غلام غوث صاحب کی وفات پر ذکر خیر حضرت ڈاکٹر ( سید غلام غوث ) صاحب موصوف کو بالکل ابتدائی صحابہ میں سے نہیں تھے (ان کی بیعت غالباً 1901ء کی تھی مگر اپنی دینداری اور تقویٰ اور عبادت اور دعاؤں میں شغف کی وجہ سے وہ اس وقت کے احمدی بزرگوں میں صف اول میں تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفۃ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ڈاکٹر صاحب مرحوم کو یہی عشق تھا۔ڈاکٹر صاحب مرحوم کے اخلاص اور عشق کا یہ عالم تھا کہ اکثر سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ میں قادیان گیا اور اس ارادے سے گیا کہ جب تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام مجھے شناخت نہیں کر لیں گے اور مجھے نام لے کر نہیں بلائیں گے میں واپس نہیں جاؤں گا خواہ نوکری رہے یا نہ رہے۔چنانچہ میں رخصت پر رخصت لیتا گیا اور پورا ایک سال قادیان میں ٹھہرا۔آخر ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے دیکھ کر کسی کام کے تعلق میں فرمایا ” میاں غلام غوث آپ یہ کام کر دیں۔میں نے خدا کا شکر کرتے ہوئے وہ کام کیا اور دوسرے دن حضرت سے رخصت لے کر نوکری پر واپس چلا گیا۔حق یہ ہے ان بزرگانِ دین کی شان ہی نرالی تھی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبر دست روحانی طاقت اور غیر معمولی مقناطیسی کشش کا ایک بین ثبوت ہے۔عبادت کا اتنا شوق تھا کہ ان کا دل گو ہر وقت مسجد میں لٹکا رہتا تھا۔آخری ایام میں جبکہ ڈاکٹروں نے انہیں چلنے پھرنے سے منع کر دیا تھا وہ پھر بھی داؤ لگا کر مسجد میں پہنچ جاتے تھے۔حتی کہ مجھے انہیں اصرار کے ساتھ روکنا پڑا کہ ان پر لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ کا حکم بھی واجب ہے۔نہایت تضرع کے ساتھ دعائیں کرنا اور ذکر الہی میں مشغول رہنا ان کے دل کی غذا تھی۔یہ انہی اعمال حسنہ کا ثمرہ تھا کہ ڈاکٹر صاحب خدا کے فضل سے صاحب کشف والہام تھے اور خدا کا بھی ان پر یہ فضل تھا کہ انہیں اکثر اپنی دعاؤں کا جلد جواب مل جا تا تھا۔گو بعض اوقات امید کے پہلو کے غلبہ کی وجہ سے وہ تعبیر میں غلطی کر جاتے تھے۔بہر حال احمدیت کا ایک اور درخشندہ ستارہ اس جہان میں غروب اور اگلے جہان میں طلوع ہوا۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی وفات کے اس قدر جلد بعد ڈاکٹر صاحب کی وفات بھی ایک بھاری قومی صدمہ ہے۔حضرت مفتی صاحب تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاص مقرب صحابی تھے اور ان کا درجہ بہت بلند تھا۔مگر ڈاکٹر سید غلام غوث صاحب کا وجود بھی اس وقت جماعت میں ایک بڑی نعمت تھا۔خاص صدمہ کی بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے صحابی جلد جلد گزرتے جاتے ہیں۔کچھ عرصہ