مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 417 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 417

مضامین بشیر جلد سوم 417 پہنچا اور بالآخر خلفاء کے زمانہ میں آکر اس مقدس بیج کے ذریعہ دنیا کے گوشہ گوشہ میں بے شمار شاداب اور تر و تازہ باغات نصب ہو گئے۔لیکن اس کے بعد درمیانی زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ایک پیش گوئی کے مطابق یہ باغات کمزور پڑنے شروع ہو گئے اور مسلمانوں کی حالت ادبار کی صورت میں بدل گئی۔مگر جیسا کہ رسول پاک (فداہ نفسی) نے فرمایا تھا مسیح موعود کے زمانہ میں اسلام کا دوسرا سنہری دور مقدر تھا۔جس کی عالمگیر وسعت کا زمانہ مصلح موعود کے عہد میں شروع ہونا تھا اور دنیا کے کناروں تک کی قوموں نے اس سے برکت پانی تھی۔پس مصلح موعود کی اس مخصوص صفت کے ماتحت جماعت کا فرض ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں میں اسلام اور احمدیت کا جھنڈا لے کر دنیا کے کونے کونے میں پھیل جائے۔اور ہر ملک اور ہر علاقہ اور ہر شہر میں پہنچ کر قوموں کو برکت دیتی چلی جائے۔بے شک اس وقت بھی دنیا کے بہت سے آزاد ممالک میں جماعت احمدیہ کے مبلغ ، اسلام کی تبلیغ کے لئے پھیلے ہوئے ہیں۔مگر دنیا کی وسیع آبادی کے مقابل پر ان مبلغوں کی تعداد گویا آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔لہذا اب وقت ہے کہ جماعت کے مخلص فدائی زیادہ سے زیادہ تعداد میں آگے آئیں۔اور ہر چہارا کناف عالم میں پھیل کر دنیا بھر کی قوموں کو برکت دیں۔ورنہ ظاہر ہے کہ موجودہ رفتار سے اسلام اور احمدیت کے عالمگیر غلبہ کا مقصد ہرگز حاصل نہیں ہو سکتا۔اس کے لئے ایک طرف جماعت کی والہانہ جد و جہد اور دوسری طرف خدا کی معجز نما نصرت کی ضرورت ہے۔مجھے اس وقت اپنے بچپن کا ایک شعر یاد آ رہا ہے جو میں نے جماعت کی موجودہ رفتار کے پیش نظر اپنی اوائل عمر میں کہا تھا اور اسی پر میں اپنے اس نوٹ کو ختم کرتا ہوں۔میں نے کہا تھا: سخت مشکل ہے کہ اس چال سے منزل یہ کٹے ہاں اگر ہوسکے پرواز کے پر پیدا کر سو دوست خدا سے دعا کریں وہ ہمیں دکھاوے کے پر نہیں بلکہ پرواز کے پر عطا کرے اور ہمارے ہاتھوں سے دنیا میں اسلام کا بول بالا ہو۔وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَظِيْمِ (محرره 13 فروری 1957 ء) روزنامه الفضل ربوہ 19 فروری 1957ء)