مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 413 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 413

مضامین بشیر جلد سوم 413 پیشگوئی مصلح موعود کے متعلق جماعت کی بھاری ذمہ داری بکوشیداے جواناں تا بدیں قوت شود پیدا ( امسیح الموعود ) مصلح موعود والی پیشگوئی کو جو اہمیت حاصل ہے وہ احباب جماعت سے پوشیدہ نہیں۔اس پیشگوئی کے متعلق اولاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو 20 فروری 1886 ء کے دن ہوشیار پور کے مقام پر ނ ( جو آج کل بھارت کے صوبہ مشرقی پنجاب میں واقع ہے ) وحی نازل ہوئی تھی جس کا آغاز ان الفاظ ہوا تھا کہ : ” میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں“ بلکہ حقیقتاً اس پیشگوئی کا آغا ز تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے ہی ہو گیا تھا جبکہ آپ نے آنے والے مسیح کے متعلق یہ الفاظ فرمائے تھے کہ "يَتَزَوَّجُ وَ يُولَدُ لَ“ اور پھر اس کے بعد درمیانی زمانہ میں بھی امت محمدیہ کے بعض اولیاء اس پیشگوئی کی طرف اشارہ فرماتے رہے ہیں مگر اس پیشگوئی کی پوری تفصیل حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ہی نازل ہوئی۔جبکہ آپ ہوشیار پور کے ایک گوشہ تنہائی میں عبادت اور تضرعات میں مصروف ہو کر چلہ کشی فرما رہے تھے۔اور جو شخص بھی اس پیشگوئی کے الفاظ کا مطالعہ کرے گا اور ان کی گہرائیوں میں غوطہ لگائے گا وہ اس پیشگوئی کی غیر معمولی شان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔اس پیشگوئی کی اہمیت اس لحاظ سے اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ صرف ایک فرد واحد کے متعلق انفرادی نوعیت کی پیشگوئی نہیں ہے جس میں اس کی ذاتی شان کا اظہار کیا گیا ہو بلکہ حقیقتا یہ پیشگوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خدا داد مشن اور اس کی عالمگیر وسعت اور اس کے تسلسل اور اس کی غیر معمولی کامیابی اور با مرادی سے تعلق رکھتی ہے۔مگر اس جگہ مجھے اس پیشگوئی کی تفاصیل پر بحث کرنا منظور نہیں بلکہ میں اس پیشگوئی کے صرف اس مخصوص پہلو کے متعلق چند مختصر الفاظ کہنا چاہتا ہوں جو جماعت احمدیہ کی ذمہ داری سے تعلق رکھتا ہے۔ظاہر ہے کہ جب کسی جماعت کے امام کی صفات کے بارہ میں اللہ تعالیٰ کوئی امر ظاہر فرماتا ہے تو اس سے لازماً ضمنی طور پر یہ مراد بھی ہوا کرتی ہے کہ جماعت کے افراد کو چاہئے کہ وہ بھی اپنے آپ کو ان صفات سے متصف کریں۔کیونکہ جیسا کہ ہر شخص سمجھ سکتا ہے جماعت کے امام کی حیثیت ایک انجن کی ہے اور اس کے متبعین گویا ان گاڑیوں کا رنگ رکھتے ہیں جو اس انجن کے ساتھ لگائی جاتی ہیں۔پس اگر کسی گاڑی کے ڈبے انجن کے ساتھ کھنچے جانے کی اہلیت نہ رکھتے ہوں یا ان کے پہیوں میں ایسی صفائی اور روانی کا رنگ نہ پایا