مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 407 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 407

مضامین بشیر جلد سوم فرض نہایت عمدگی اور خوش اسلوبی سے ادا فرماتے رہے۔407 روزنامه الفضل ربوہ 15 جنوری 1957ء) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض اہم مکاشفات اور دوستوں کو خاص دعا کی تحریک مجھے اس جگہ کوئی مضمون لکھنا مقصود نہیں اور نہ ہی کوئی تشریح پیش کرنا میرا مقصد ہے۔بلکہ ایک غیبی تحریک کے ماتحت صرف دعا کی غرض سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض خاص الہامات اور مکاشفات کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں اور وہ بھی صرف اشارہ کے طور پر۔دوست ان مکاشفات پر توجہ کے ساتھ غور کریں اور خدائی نصرت اور الہی حفاظت اور آسمانی برکات کے نزول کے لئے خاص طور پر دعائیں شروع کر دیں اور کرتے چلے جائیں۔(1) سب سے پہلے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ رویا ہے جو حضور کی مشہور تصنیف ” آئینہ کمالات اسلام کے صفحہ 578 تا 580 میں اور پھر اس سے نقل ہو کر تذکرہ کے جدید ایڈیشن کے صفحہ 226 تا 231 پر چھپ چکا ہے۔جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیکھا تھا کہ ایک جم غفیر حضور کے باغ میں گھس گیا ہے اور حضور کے دل میں خوف پیدا ہوا کہ اب یہ لوگ میری شاخوں کو کاٹیں گے اور میرے پھلوں کو بر باد کریں گے اور میری زمین کو اپنا وطن بنالیں گے۔جس پر حضور بڑی رقت کے ساتھ دعا کرتے ہوئے ان لوگوں کی طرف بڑھے اور جب آگے آگئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو گویا ایک نفسِ واحد کی طرح اچانک ہلاک کر کے رکھ دیا ہے۔( تذکرہ صفحہ 226 تا 231 و آئینہ کمالات اسلام از روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 578 تا580) یہ مکاشفہ بہت لمبا اور لطیف تفاصیل پر مشتمل ہے مگر میں اس جگہ صرف اسی مجمل خلاصہ پر اکتفا کرتا ہوں۔دوستوں کو چاہئے کہ مفصل حوالہ تذکرہ میں ضرور ملاحظہ کریں۔یا اگر اصل عربی عبارت دیکھنی ہو تو آئینہ کمالات اسلام دیکھیں اور اس پر غور کریں۔(2) دوسرا الہام حضرت مسیح موعود کا وہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ حضور کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ: