مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 393 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 393

مضامین بشیر جلد سوم 393 طلباء کے ہیں۔مگر دراصل اس کے ایسے پختہ کا سابق طلباء مراد ہیں جو اپنی درس گاہ کے ساتھ وفاداری کے جذبات کے ماتحت درس گاہ کی ترقی اور اس کی نیک روایات کو زندہ رکھنے کے لئے کوشاں رہیں تعلیم الاسلام ہائی سکول کی بنیاد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منشاء کے ماتحت آج سے زائد از نصف صدی قبل قادیان میں رکھی گئی تھی اور جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے اس کی غرض و غایت اسلام کی اس تعلیم کو پھیلانا اور جماعت احمدیہ کے نو جوانوں میں اس تعلیم کو راسخ کرنا تھی جو احمدیت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں ظاہر اور قائم فرمائی ہے۔مسلمان عملاً ایک مُردہ قوم بن چکے تھے اور اسلام بہت سی غلط روایات اور غلط تشریحات کی وجہ سے گویا ایک سو یا ہوا مذہب بن گیا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا سے الہام پا کر اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نور سے روشنی حاصل کر کے اسلام کو دوبارہ زندہ کیا۔تا کہ اس کا کھویا ہوا وقار اور کھوئی ہوئی طاقت دوبارہ عود کر آئے اور یہ قرآنی وعدہ اپنی پوری شان کے ساتھ تکمیل کو پہنچے کہ : هُوَ الَّذِى اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ (التوبه: 33) اس مقصد کے ما تحت تعلیم الاسلام ہائی سکول کی غرض یہ تھی کہ احمدی نوجوانوں کو سچا مسلمان بنا ئیں اور ان کے اندر اسلامی زندگی کی روح پھونکیں اور پھر ان کے ذریعہ سے دنیا بھر میں اسی نور کی اشاعت کریں اور جو اولڈ بوائز ایسوسی ایشن تعلیم الاسلام ہائی سکول کے طلباء کی قائم ہو اس کا بھی اولین فرض یہ ہے کہ انہی لائنوں پر اپنے سکول کی روایات کو زندہ کر کے دنیا میں ہدایت اور روشنی پھیلانے کا ذریعہ بنیں۔ہر درس گاہ کا ایک نمایاں کیریکٹر ہوتا ہے۔ہماری اس درس گاہ کا کیریکٹر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس عہد میں مرکوز ہے جو آپ بیعت کے وقت لیا کرتے تھے یعنی : میں دین کو دنیا پر مقدم کروں گا“ اس مقدس عہد کے الفاظ نہایت درجہ پر حکمت ہیں۔ان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ میں دنیا کو چھوڑ کر راہب اور تارک الدنیا بن جاؤں گا بلکہ یہ حکیمانہ فلسفہ بیان کیا گیا ہے کہ میں دنیا میں رہتے ہوئے اور دنیا کے کاموں میں حصہ لیتے ہوئے اور دنیا میں اپنے لئے اور اپنی جماعت کے لئے ترقیات کا راستہ کھولتے ہوئے ایسی زندگی اختیار کروں گا کہ جہاں بھی دین اور دنیا کے مفاد کرائیں گے وہاں میں دین کو مقدم کروں گا اور دین کی خدمت کو اپنا اولین فرض سمجھوں گا۔پس سکول کے اولڈ بوائز سے جن میں سے ایک اولڈ بوائے ہونے کا مجھے بھی فخر حاصل ہے، میری یہ