مضامین بشیر (جلد 3) — Page 391
مضامین بشیر جلد سوم 391 ہیں۔نبی ایک عظیم الشان مقصد لے کر آتا ہے۔مگر ظاہر ہے کہ ہر ایک انسان کی زندگی خواہ وہ نبی ہے یا غیر نبی محدود ہوتی ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے نبوت کے کام کی تکمیل کے لئے خلافت کا نظام قائم فرمایا ہے تا کہ وہ نبی کے بعد سلسلہ خلفاء کے ذریعہ نبوت کے کام کو تکمیل تک پہنچائے۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ” الوصیت میں خلافت کے نظام کو قدرت ثانیہ کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے کہ گویا نبوت خدا کی قدرت اولیٰ ہے اور خلافت خدا کی قدرت ثانیہ ہے جس کے ذریعہ قدرت اولی کے مقاصد کو تکمیل تک پہنچایا جاتا ہے۔خلافت کے نظام میں اللہ تعالیٰ کی یہ لطیف حکمت مضمر ہے کہ بظاہر انتخاب مومنوں کی جماعت کرتی ہے مگر تقدیر خدا کی چلتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے تصرف خاص سے مومنوں کے قلوب کو خلافت کے اہل شخص کی طرف مائل کر دیتا ہے۔گویا موجودہ اصطلاح میں کہہ سکتے ہیں کہ اس معاملہ میں خدا Wire Puller کا کام کرتا ہے۔چنانچہ بخاری میں آتا ہے کہ جب اپنے مرض الموت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے ذکر کیا کہ میں نے ارادہ کیا تھا کہ تمہارے والد کو اپنے پیچھے خلیفہ مقرر کر جاؤں لیکن پھر میں نے اس خیال سے ارادہ ترک کر دیا کہ: يَابَى اللَّهُ وَيَدْفَعُ الْمُؤْمِنُونَ ( صحیح بخاری کتاب المرضی باب قول المریض انى وجع او وار اساه اواشتند بی الوجع وقول) یعنی اللہ تعالیٰ ابو بکر کی خلافت کے سوا کسی اور کی خلافت پر راضی نہیں ہوگا اور نہ ہی مومن کسی اور کی خلافت پر جمع ہوں گے۔یہ مختصر سی حدیث اسلامی خلافت کے فلسفہ کی جان ہے اور اس سے یہ دوسرا سوال بھی حل ہو جاتا ہے کہ خلیفہ معزول کیوں نہیں ہوسکتا۔کیونکہ جب خلیفہ کا تقر رخدا کے تصرف خاص کا نتیجہ ہوتا ہے تو پھر ظاہر ہے کہ اسے کوئی دوسری طاقت معزول نہیں کر سکتی۔اس لئے حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان سے فرمایا تھا کہ: ”خدا تجھے قمیص پہنائے گا اور منافق اسے اُتارنا چاہیں گے مگر تم ہر گز اس کے اُتارنے پر راضی نہ ہونا “ ( ترمذی ابواب المناقب باب منع النبی ان لا يطلع القميص ) اور یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں جہاں جہاں بھی خلافت کا ذکر آیا ہے وہاں اللہ تعالیٰ نے خلافت کو اپنی خاص مشیت کی طرف منسوب کیا ہے۔چنانچہ یہ ذکر قرآن مجید میں بارہ (12) جگہ آیا ہے اور ان سب جگہ خدا نے بلا استثناء خلافت کو اپنی تقدیر خاص کی طرف منسوب فرمایا ہے۔دراصل خلافت حیات روحانی کے تسلسل کا ذریعہ ہے۔جس طرح کہ نکاح اور خاندانی نظام حیات جسمانی