مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 390 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 390

مضامین بشیر جلد سوم 390 والے کے لئے شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی۔حدیث میں آتا ہے کہ جب سرور کائنات حضرت خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا سے علم پا کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کی پیشگوئی فرمائی تو ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ: لَعَلَّ اللَّهَ يُقَمِّصُكَ قَمِيصًا فَإِنَّهُ إِذْ اَرَادَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعُهُ ( ترمذی ابواب المناقب باب منع النبی ان لا يطلع القميص ) یعنی اے عثمان ! خدا تجھے ایک قمیص پہنائے گا۔مگر منافق لوگ اسے اتارنا چاہیں گے لیکن تم اسے ہرگز نہ اُتارنا۔اور جانتے ہو کہ یہ الفاظ کس خلیفہ کے متعلق فرمائے گئے ؟ یہ اس خلیفہ کے متعلق فرمائے گئے جو اڑسٹھ سال کی عمر میں خلیفہ بنا اور اسی سال کی عمر تک مسند خلافت پر متمکن رہ کر بد باطن منافقوں کے ناپاک ہاتھوں سے شہید ہوا۔مگر اس انتہائی بڑھاپے کی عمر کے باوجود اس مرد خدا نے جان دے دی مگر اپنے پیارے آقا و امام کے ارشاد کے مطابق اس مقدس قمیص کے دامن کو اپنے ہاتھ سے نہیں چھوڑا جو خدائے کلیم نے اس کے کندھوں پر ڈالی تھی۔بس اس وقت اس کے سوا کچھ نہیں کہوں گا۔ھے اگر در خانه کس است حرفی بس است وَاخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ ( محرره 28 ستمبر 1956ء)۔۔۔۔۔۔۔۔۔روزنامه الفضل ربوه 30 ستمبر 1956ء) خلافت حیات روحانی کے تسلسل کا ایک ذریعہ ہے کراچی کے ایک دوست نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے کو ایک خط لکھا تھا جس میں انہوں نے برکات خلافت کے متعلق اپنی ایک تقریر کا ذکر کیا تھا۔اس پر حضرت میاں صاحب ممدوح کی طرف سے جو جواب بھجوایا گیا ہے وہ قارئین کے استفادہ کے لئے درج ذیل کیا جاتا ہے۔خاکسار۔پرویز پروازی کلرک دفتر حفاظت مرکز ر بوه ) خلافت کا نظام دراصل نبوت کے نظام کی فرع ہے یا اسے دوسرے لفظوں میں نبوت کا تمہ کہہ سکتے