مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 389 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 389

مضامین بشیر جلد سوم 389 نتیجہ کے لحاظ سے ایک فرق ضرور پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ جہاں اس شخص پر تر دیدی اعلان کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی جس کے خلاف کوئی بات کہی گئی ہو وہاں اس شخص پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے جس کے حق میں اس قسم کا ناجائز پرو پیگنڈا کیا جائے اور یہ ایک موٹی سی بات ہے جس کی مزید تشریح کی ضرورت نہیں۔بالآخر ان دو اصولی اور بنیادی اعتراضوں کا جواب دینے کے بعد جن میں سے پہلے اعتراض کا جواب چند دن ہوئے الفضل میں شائع ہوا تھا اور دوسرے اعتراض کا جواب اوپر دیا گیا ہے، میں ایک ضمنی اور نسبتاً محدود اعتراض کا جواب بھی دینا چاہتا ہوں۔یہ اعتراض بعض ان لوگوں کی طرف سے کیا گیا ہے جو حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کی بیماری اور عمر کا بہانہ رکھ کر یہ نا پاک پرو پیگنڈا کر رہے ہیں کہ موجودہ حالات میں حضور کو نعوذ باللہ خلافت سے معزول کر کے کوئی نیا خلیفہ چننا چاہئے۔اور یا یہ اعتراض ان فتنہ پردازوں کی طرف سے کیا جاتا ہے جو حضور کی کسی اصلاحی یا تعزیری کارروائی پر بگڑ کر اپنی اصلاح کی بجائے حضور کو مسند خلافت سے ( خاکش بدہن ) معزول کرانے کے متمنی ہیں۔اس اعتراض کا اصولی جواب تو وہی ہے جو اوپر کے اعتراض کی تردید میں لکھا گیا ہے۔یعنی یہ کہ جب اسلامی تعلیم کے مطابق خلیفہ خدا بناتا ہے تو پھر یہ سوال ایک سراسر احمقانہ سوال ہے کہ کیوں نہ موجودہ خلیفہ کو ان کی بیماری یا عمر کی بناء پر خلافت سے معزول کر دیا جائے ؟ ایک عمارت تو خدا بنائے اور وہ خدا کے تصرف خاص سے کھڑی کی جائے مگر اسے مسمار کرنے کے لئے ایرے غیرے پہنچ جائیں !! ھے ایں خیال است محال است و جنوں“ علاوہ ازیں حضرت خلیفہ اول کے سامنے بعض فتنہ پردازوں نے یہی مسئلہ پیش کیا تھا اور حضور نے اس پر جو الفاظ ارشاد فرمائے وہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔حضور نے فرمایا : مجھے اگر خلیفہ بنایا ہے تو خدا نے بنایا ہے اور اپنے مصالح سے بنایا ہے۔خدا کے بنائے ہوئے خلیفہ کو کوئی طاقت معزول نہیں کر سکتی۔۔۔اگر خدا تعالیٰ نے مجھے معزول کرنا ہو گا تو وہ مجھے موت دے دے گا۔تم اس معاملہ کو خدا کے حوالہ کرو تم معزولی کی طاقت نہیں رکھتے جھوٹا ہے وہ شخص جو کہتا ہے کہ ہم نے خلیفہ بنایا ہے (الحکم 21 جنوری 1914ء) لیکن حضرت مولوی نور الدین طریقه اسمع الاول پر ہی بس نہیں۔غزل کے مسئلہ کو خود ہم سب کے آقا اور سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم (فدا نفسی) نے حل فرمایا ہے۔اور ایسا حل فرمایا ہے کہ کسی شک کرنے