مضامین بشیر (جلد 3) — Page 385
مضامین بشیر جلد سوم 385 میں بوجہ علالت آج کل علمی خدمت سے محروم رہا جاتا ہوں۔وَاخِرُ دَعْوَنَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ ( محرره 21 ستمبر 1956) روزنامه الفضل ربوہ 23 ستمبر 1956ء) موجودہ فتنہ کے تعلق میں ایک اور اعتراض کا جواب کیا خلیفہ اسی الثانی اید واللہ نے آئند و خلافت سے متعلق کوئی خاص اشارے کئے ہیں؟ اس وقت جوفتنہ اٹھا ہوا ہے جسے بعض اندرونی منافقوں نے برپا کیا اور بعض بیرونی فتنہ پردازوں نے ہوادی ہے۔اس کے متعلق جہاں تک میں نے غور کیا ہے اصل اور حقیقی اعتراض جو کئے جارہے ہیں وہ صرف دو ہیں۔جنہیں آڑ بنا کر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو بزعم خود بد نام کرنے اور جماعت میں انتشار پیدا کرنے کی ناپاک کوشش کی جارہی ہے۔ان دواعتراضوں میں سے پہلا اعتراض تو یہ ہےکہ نعوذ باللہ حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ الہ تعالی نے اپنے حالیہ اعلانات اور خطبات وغیرہ میں حضرت خلیفہ اول کی بہتک کی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقرب ترین صحابی اور جماعت کے خلیفہ اول کی تحقیر اور تذلیل کے مرتکب ہوئے ہیں۔دوسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حالیہ اعلانات وغیرہ میں آئندہ خلافت کے متعلق بعض ایسے اشارات کئے ہیں جن میں نعوذ باللہ ایک طرف ایک مخصوص فرد کو آگے لانے اور جماعت کی رائے کو اس کے حق میں ہموار کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور دوسری طرف بعض دوسرے افراد کو پیچھے ڈالنے اور جماعت کی توجہ کو ان کی طرف سے ہٹانے کی سعی کا رنگ نظر آتا ہے اور یہ بات خلاف تقویٰ ہونے کے علاوہ اسلامی خلافت کے جمہوری نظام میں ناواجب رخنہ اندازی کے مترادف بھی ہے۔ان دواعتراضوں میں سے پہلے اعتراض کا جواب تو یہ خاکسار چند دن ہوئے الفضل میں شائع کرا چکا ہے۔جہاں میں نے مختصر مگر پختہ دلائل سے ثابت کیا ہے کہ حضرت خلیفہ اول کی ہرگز کوئی تذلیل نہیں کی گئی بلکہ جو کچھ کہا گیا ہے صرف اصولی رنگ میں اسلام اور احمدیت کی تعلیم کی روشنی میں خالصتاً نیک نیتی کے ساتھ کہا گیا ہے۔ورنہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ اور مبائعیین کی ساری جماعت میں بلا استثناء