مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 384 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 384

مضامین بشیر جلد سوم 384 حضرت خلیفہ اول کو ایک پاکباز اور متقی اور عاشق قرآن بزرگ خیال نہیں کرتے وہ جھوٹا ہے۔جو شخص یہ کہتا ہے کہ ہم حضرت خلیفہ اول کی خدمات کو کم کر کے دکھانا چاہتے ہیں وہ جھوٹا ہے۔باقی رہا درجہ کا سوال سو رسول پاک نے مومنوں کو اس سوال میں پڑنے سے منع فرمایا ہے۔ہاں ہم اتنا جانتے ہیں کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جہاں حضرت خلیفہ اول کی تعریف حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمائی ہے وہاں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی تعریف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان پر خود رب العرش نے فرمائی ہے۔وَ إِنَّهُ لَا يَضِلُّ رَبِّي وَلَا يَنْسَى - بالآخر میں اپنے دوستوں سے صرف یہ مختصر سی بات کہہ کر رخصت ہوتا ہوں کہ یہ فتنوں کے دن ہیں۔دوستوں کو ان ایام میں بہت دعائیں کرنی چاہئیں۔کیونکہ یہی وہ دن ہوتے ہیں جن میں سچے مومن اپنی درمندانہ دعاؤں کے ذریعہ ترقی کرتے ہیں۔کسی بزرگ نے کیا سچ فرمایا ہے کہ : - ہر بلا کیں قوم را حق داده اند زیر آن گنج کرم بنهاده اند میں اپنے ذوق کے مطابق آج کل ذیل کی چار دعائیں کرتا ہوں۔اگر دوست پسند کریں تو وہ بھی ان دعاؤں کو اختیار کر سکتے ہیں : (1) بیدا کہ اللہ تعالی موجودہ فتنہ میں جماع کا حافظ و ناصر ہواور حضرت خلیفہ مسیح لثانی ایدہ اللہ تعلی بنصرہ العزیز کو صحت اور برکت اور خدمت کی لمبی سے لمبی زندگی عطا کرے۔(2) یہ کہ موجودہ فتنہ میں جو لوگ ملوث ہیں اور خدا کے علم میں ان کی اصلاح مقدر نہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں جماعت سے کاٹ کر ان کے فتنہ سے جماعت کو محفوظ کر دے۔(3) یہ کہ جولوگ فتنہ میں ملوث ہیں مگر خدا کے علم میں ان کی اصلاح مقدر ہے اللہ تعالیٰ انہیں بچی تو بہ کی توفیق دے اور ان کی اصلاح کا رستہ کھول دے۔(4) یہ کہ جولوگ حقیقتا فتنہ میں ملوث نہیں ہیں مگر کسی غلط فہمی کی وجہ سے ملوث سمجھ لئے گئے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی بریت کا سامان پیدا کرے۔یہ وہ چار جامع دعائیں ہیں جو میں آج کل کرتا ہوں اور اگر دوست پسند کریں تو وہ بھی ان چار دعاؤں کا التزام کر کے موجودہ وقت میں جماعت کی روحانی خدمت بجالا سکتے ہیں۔مگر علم رکھنے والے دوستوں کو علمی خدمت کی طرف سے غافل نہیں رہنا چاہئے۔کیونکہ دعا اور دواہی خدمت کے دو بڑے ذریعے ہیں۔گو مجھے افسوس ہے کہ