مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 378 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 378

مضامین بشیر جلد سوم 378 پمفلٹ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب سے چند مناسب اقتباسات پیش کئے گئے ہیں۔ان دونوں ٹریکٹوں کے ملاحظہ فرمانے کے بعد حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے مدظلہ العالی نے حسب ذیل رائے کا اظہار فرمایا ہے: یہ سلسلہ بہت مفید ہے اسے جاری رکھنا چاہئے اور مختلف قسم کے مضمونوں پر چھوٹے چھوٹے خوبصورت، دیدہ زیب رسائل نکالتے رہنا چاہئے۔موجودہ رسالےصوری اور معنوی ہر دوخو بیوں کے لحاظ سے قابل تعریف ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں نافع الناس بنائے۔“ احباب کرام! ان ہر دور سالوں کو زیادہ سے زیادہ دوسرے دوستوں تک پہنچانے اور مفید اثر پیدا کرنے کے لئے نظارت ہذا سے فوری طور پر منگوالیں۔۔۔۔ناظر اصلاح وارشادر بوه) روزنامه الفضل ربوه 10 اگست 1956ء) موجودہ فتنہ کے تعلق میں ایک اعتراض کا جواب حضرت خلیفہ اول کی ہرگز کوئی تذلیل نہیں ہوئی موجود ہفتہ کے تعلق میں جہاں منافقوں اور ان کے حامیوں کی طرف سے اور بہت سے اعتراض پیدا کئے گئے ہیں وہاں ایک اعتراض یہ بھی کیا جارہا ہے کہ عوذ باللہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ نے حضرت خلیفۃ ابیح الاول کے متعلق بعض بہتک آمیز الفاظ استعمال کئے ہیں۔جن سے گویا اپنے مقابل پر حضرت خلیفہ اول کی تذلیل اور ان کے مقابل پر اپنی تو قیر اور برتری ثابت کرنا مقصود ہے۔اس کے جواب میں یا درکھنا چاہئے کہ جہاں تک اصول کا سوال ہے کسی واقف کار اور سمجھدار انسان کو اس بات سے انکار نہیں ہوسکتا کہ جیسا کہ درجہ کے لحاظ سے نبیوں میں فرق ہوتا ہے اور خود قرآن مجید نے بھی بڑی وضاحت کے ساتھ یہ اصول بیان فرمایا ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے کہ : تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ (البقره: 254) اسی طرح خلفاء میں بھی درجہ کا فرق ہوتا ہے۔چنانچہ حدیث میں ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے