مضامین بشیر (جلد 3) — Page 377
مضامین بشیر جلد سوم 377 اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں چند دن ہوئے بھجوائی تھی اس کا ترجمہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔یہ تار میرے قلب کی صحیح آئینہ دار ہے۔میں نے تار میں لکھا تھا: والفضل کی اشاعت مؤرخہ 30 جولائی میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ رکھا یا اس کے بعض ساتھیوں نے مجھے اس مضمون کے خطوط لکھے تھے جس میں مجھے آئندہ خلافت کی پیش کش کی گئی تھی۔یہ ایک خطر ناک افتراء اور گندہ بہتان ہے۔مجھے کبھی ایسا کوئی خطا نہیں ملا۔اگر کوئی شخص مجھے ایسا کوئی خط لکھتا تو اسے میری طرف سے منہ توڑ جواب ملتا۔میرا ہمیشہ سے یہ ایمان رہا ہے جیسا کہ میں نے اپنے رسالہ اسلامی خلافت کا صحیح نظریہ میں دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ خلیفہ کا تقرر کلیتہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور صرف وہی شخص خلیفہ بن سکتا ہے جسے خدا اس منصب کے لئے پسند فرمائے۔میں اس ناپاک اتہام سے ہاتھ دھوتا ہوں۔خاکسار مرزا بشیر احمد ر بوه اس کے بعد مجھے کچھ اور کہنے کی ضرورت نہیں سوائے اس کے اس جگہ اپنے مذکورہ بالا رسالہ کا آخری فقرہ درج کر دینا چاہتا ہوں۔میں نے اس رسالہ کے آخر میں لکھا تھا کہ : ” خلافت حقیقتا ایک بہت ہی بابرکت نظام ہے جو نبوت کے تکملہ کے طور پر خدا کی طرف سے قائم کیا جاتا ہے اور پھر تم تو اس وقت خلافت کے سنہری دور میں سے گزررہے ہو۔پس اس کی قدر کو پہچا نو کہ پھر خدا جانے کہ کب آئیں یہ دن اور یہ بہار ( محرره 6 اگست 1956 ء ) روزنامه الفضل ربوہ 8 اگست 1956ء) نظارت اشاعت کی طرف سے شائع شدہ دو پمفلٹ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی رائے نظارت اصلاح وارشاد کی طرف سے حال ہی میں دو (2) پمفلٹ بعنوان ” اکناف عالم میں تبلیغ اسلام اور جماعت احمدیہ اور (2) ” خاتم الانبیاء کا عدیم المثال مقام نہایت خوبصورت پیرائے میں شائع کئے گئے ہیں۔پہلے پمفلٹ میں رسالہ ”لائف کے اس مضمون کا ترجمہ اور تصاویر ہیں جو رسالہ مذکور نے سال گزشتہ اسلام پر لکھا تھا اور جس میں جماعت احمدیہ کی تبلیغی مساعی کا بھی خاص طور پر ذکر ہے اور دوسرے