مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 18 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 18

مضامین بشیر جلد سوم 18 ناقص علم پر تکیہ لگا کر کس طرح بیٹھ سکتا ہے؟ اسے آگے بڑھنا ہو گا ورنہ اس کا علم اس ٹھہرے ہوئے پانی کی طرح سڑنے لگے گا۔جس میں کوئی تازہ نہر نہیں گرتی اور نہ وہ آگے حرکت کرنے کا رستہ پاتا ہے۔اور یا درکھو کہ درسگاہوں کا علم تو صرف اس دروازہ کی حیثیت رکھتا ہے۔جو علم کے میدان میں داخل ہونے کا رستہ کھولتا ہے اور اصل میدان اس سے آگے ہے۔پس خدا کا نام لیتے ہوئے اس میدان میں قدم رکھو اور پھر آگے بڑھتے چلے جاؤ اور آگے بڑھتے چلے جاؤ۔دوسری بات یہ ہے کہ وہ علم جو عمل کے بغیر ہے وہ ایک ایسا جسم ہے جس میں کوئی روح نہیں۔اس لئے قرآن شریف بے عمل علماء کے متعلق فرماتا ہے۔كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَاراً (الجمعه: 6) یعنی بے عمل عالم کی حالت اس گدھے کی طرح ہوتی ہے جس کی پیٹھ پر کتابوں کا بوجھ لاد دیا جائے۔بظاہر ایسا گدھا علم کا حامل ہوتا ہے۔مگر حقیقتاً اسے اس علم سے کوئی دور کا تعلق بھی نہیں ہوتا۔بلکہ یہی علم اس کے لئے ایک بوجھ بن جاتا ہے۔جس میں اس کی کمر توڑنے کے سوا کوئی اور صلاحیت نہیں ہوتی۔پس میں اس موقع پر اپنے عزیز نو جوانوں کو یہی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ علم اور حصول علم کے متعلق ان دو بنیادی چیزوں کو ہمیشہ یادرکھیں۔یعنی اول یہ کہ ان کا علم ایک منجمد پتھر نہ ہو۔بلکہ ایک ترقی کرنے والی جاندار چیز ہو۔اور دوسرے یہ کہ ان کے علم کے مجسمہ میں عمل کی روح ہو۔اگر وہ ان دو حقیقتوں کو اچھی طرح سمجھ کران پر مضبوطی سے قائم ہو جائیں گے تو میں خدا کے فضل سے یقین رکھتا ہوں کہ وہ اپنے اندر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیشگوئی کو پورا ہوتے دیکھیں گے۔جہاں آپ خدا سے علم پا کر فرماتے ہیں کہ :۔” خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار خبر دی ہے کہ وہ مجھے بہت عظمت دے گا اور میری محبت دلوں میں بٹھائے گا اور میرے سلسلہ کو تمام زمین میں پھیلائے گا اور سب فرقوں پر میرے فرقہ کو غالب کرے گا۔اور میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کے رو سے سب کا منہ بند کر دیں گے۔اور ہر ایک قوم اس چشمہ سے پانی پئے گی اور یہ سلسلہ زور سے بڑھے گا اور پھولے گا۔یہاں تک کہ زمین پر محیط ہو جاوے گا۔سواے سننے والو! ان باتوں کو یاد رکھو اور ان پیش خبریوں کو اپنے صندوقوں میں محفوظ کر لو کہ یہ خدا کا کلام ہے جو ایک دن پورا ہو گا۔“ تجلیات الہیہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 409-410) پس یہ باتیں تو انشاء اللہ ضرور پوری ہوں گی اور دنیا کی کوئی طاقت اس اہل خدائی تقدیر کو بدل نہیں سکتی۔مگر کاش کہ یہ باتیں ہم میں اور ہماری اولادوں میں پوری ہوں۔اور ہم نہ صرف خدائی نشان کو پورا