مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 376 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 376

مضامین بشیر جلد سوم 376 کے موجودہ فتنہ سے پوری طرح آگاہ ہو چکی ہے۔میرا ارادہ تھا کہ میں اس کے متعلق ایک مفصل مضمون لکھ کر الفضل میں شائع کراؤں تا دوستوں کو اس قسم کے فتنوں اور ان کی نوعیت اور فتنہ پردازی کے طریق کار پر پوری طرح آگا ہی ہو جائے۔مگر میری موجودہ بیماری نے مجھے اس کی طاقت نہیں دی۔البتہ میں اس جگہ اس تار کا ترجمہ شائع کرنا مناسب سمجھتا ہوں جو چند دن ہوئے میں نے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں ارسال کی تھی اور جس کا خلاصہ حضور کی طرف سے الفضل میں شائع کیا جا چکا ہے۔مجھے اس تار کی اس لئے ضرورت پیش آئی تھی کہ بعض خنّاس صفت لوگوں نے میرے متعلق یہ افترا باندھا تھا کہ وہ نعوذ باللہ مجھے اپنے خطوں میں آئندہ خلافت کی پیش کش کرتے رہے ہیں۔میرے دل کا حال تو خدا جانتا ہے لیکن جو دوست میری طبیعت سے واقف ہیں وہ بھی کم از کم اس بات کی شہادت دے سکتے ہیں کہ میری فطرت طفیلی طور پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس الہام کے مطابق واقع ہوئی ہے کہ: قُلْ أَجَرِّدُ نَفْسِي مِنْ ضُرُوبِ الْخِطَابِ میں نے حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی طرح کبھی کسی مجلس تک میں آگے بڑھ کر بیٹھنے کی خواہش نہیں کی چہ جائیکہ امامت یا خلافت کی تمنا میرے دل میں پیدا ہو۔اور خلیفہ کی زندگی میں تو آئندہ خلیفہ کا سوال اٹھانا ہی ایک سراسر خلاف اسلام اور شیطانی فعل ہے جس کا ارتکاب صرف منافقوں اور سازشی ٹولہ کو ہی زیب دیتا ہے۔میرا ایمان ہے کہ خلافت ایک نہایت ہی بابرکت نظام ہے۔جو نبوت کے تتمہ یا تکملہ کے طور پر خدا تعالیٰ کے خاص تصرف سے قائم ہوتا ہے اور گو خلیفہ کے انتخاب میں بظاہر زبان مومنوں کی چلتی ہے مگر در حقیقت تقدیر خدا کی کام کرتی ہے اور یقیناً: وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے“ قرآن مجید نے بارہ (12) جگہ پر خلافت کا ذکر کیا ہے اور بلا استثناء ہر جگہ خلیفہ کے تقرر کو خدا تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کیا ہے اور اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرنے کے لئے حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہیں کہ : ”خدا تمہیں ایک قمیص پہنائے گا اور منافق اسے اُتارنا چاہیں گے مگر تم ہرگز ہرگز اس کے اُتارنے پر راضی نہ ہونا“ اور حضرت خلیفہ السیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کی خلافت تو ایک غیر معمولی طور پر شاندار خلافت ہے جو خدا تعالیٰ کے خاص وعدوں کے مطابق قائم ہوئی ہے۔بہر حال جو تار میں نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایده