مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 374 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 374

مضامین بشیر جلد سوم 374 کفر میں داخل ہے۔جس نے خدا کی رحمت میں شک کیا وہ گیا۔بعض بزرگوں نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ خدا کی رحمت کے بعض پہلوؤں سے شیطان بھی محروم نہیں ہے۔پس آپ لوگ جو ایک خدائی مامور کی جماعت ہیں اور گویا رسول پاک کے آخرین متبعین میں شامل ہیں کیوں مایوس ہوتے ہیں؟ لَا يَايُمَّسُ مِنْ رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَفِرُونَ (يوسف: 88) سب سے بڑی بات یہ ہے کہ دعا اس الحاح اور درد اور انہماک کے ساتھ کی جائے اور خدا کے دامن کے ساتھ اس طرح لپیٹا جائے اور اس کے باب رحمت پر اپنے آپ کو اس طرح پھینکا جائے کہ وہ ارحم الراحمین آقا اپنے بندے کی تضرعات کے جواب میں کچھ نہ کچھ انکشاف بصورت رؤیا یا کشف یا الہام کرنے کے لئے حرکت میں آجائے۔حدیث میں آتا ہے کہ اگر بندہ خدا کی طرف قدم قدم چل کر آتا ہے تو وہ اس کی طرف دوڑ کر پہنچتا ہے۔پس اگر دعا میں سوز و گداز کی صحیح کیفیت پیدا ہو جائے تو خدا ضرور کسی نہ کسی رنگ میں اپنا منشاء ظاہر فرما دیتا ہے۔خصوصاً جبکہ دعا میں ایک گونہ استخارہ کی کیفیت بھی پیدا کر لی جائے۔میرا تجربہ ہے کہ حقیقی دعا جواب سے خالی نہیں رہتی گو جواب کی صورت مختلف ہو سکتی ہے۔مگر جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا ہے اس کے لئے دل کا تقویٰ اور سوز و گداز کی کیفیت اور صبر و استقامت کا مقام ضروری شرط ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ لَهُمُ الْبُشُرَى فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمُتِ اللهِ (يونس: 64-65) یعنی جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور پھر اس کے ساتھ تقویٰ بھی اختیار کرتے ہیں ان پر خدا کے فرشتے خدائی بشارتیں لے کر نازل ہوتے ہیں جو اس دنیا اور آخرت دونوں سے تعلق رکھتی ہیں۔یہ ایک ایسا وعدہ ہے جو ہمیشہ رہے گا اور کبھی نہیں بدلے گا۔پس خدا کی طرف سے رویا اور کشوف اور الہامات کے نزول کے لئے سچا ایمان اور دل کا تقویٰ جو دینداری کی روح ہے لازمی شرط ہے اور اس شرط کو پورا کرنے والا مومن جو خدا کے دروازہ پر دعاؤں کے ذریعہ گرا رہتا ہے کبھی بھی بشارات ربانیہ سے محروم نہیں رہتا۔مگر یا درکھنا چاہئے کہ یہ رستہ نازک ہے اور اس میں بعض اوقات ٹھوکر کا سامان بھی پیدا ہو جاتا ہے۔اس لئے چوکس رہو کہ شیطان دھو کے میں نہ ڈال دے اور کسی سچی خواب آنے یا سچا الہام ہونے پر ہرگز تکبر سے کام نہ لو بلکہ انکساری کے ساتھ خدا کا شکر ادا کرو کہ اس نے تمہیں اپنی ایک نعمت سے نوازا۔دیکھو حضرت موسی کے مقابل پر تکبر کرنے والے بلعم باعور نے کس