مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 368 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 368

مضامین بشیر جلد سوم 368 ہو جانا چاہئے۔کیا کسی ادارہ کا نام حضرت صاحب کی صحت سے زیادہ مقدم ہے کہ اس سوال کو بار بار اٹھایا جارہا ہے؟ مجھے افسوس ہے کہ بعض جلد باز دوست وقت اور حالات کو نظر انداز کرتے ہوئے خواہ نخواہ حضور کو پریشان کر رہے ہیں۔آخر ادب بھی تو کوئی چیز ہے؟ اداروں کے نام ایک رسمی سی بات ہے۔ربوہ کے ہسپتال کا نام نور ہسپتال ہو یا فضل عمر ہسپتال اس سے جماعت کی تنظیم اور ترقی پر کیا خاص اثر پڑتا ہے؟ پس خدا کے لئے دوست خاموش ہو جائیں اور حضرت صاحب کو مزید پریشان نہ کریں۔کیا ہمارے دوست بنی اسرائیل کے طریق پر قدم مارنا چاہتے ہیں؟ جو ہر بات پر سوالوں اور اعتراضوں کی بھر مار کر کے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تنگ کرتے رہتے تھے۔چنانچہ جب ایک دفعہ کسی مسلمان کہلانے والے نے اسی قسم کا اعتراض کر کے ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پریشان کیا تو آپ نے اس پر یہ الفاظ فرمائے : قَدْ أُوْذِيَ مُوسَى أَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ یعنی حضرت موسی کو بنی اسرائیل نے اپنے ناواجب سوالوں اور اعتراضوں کے ذریعہ اس سے بڑھ کر تنگ کیا تھا۔مگر موسی نے صبر سے کام لیا۔بہر حال حضرت خلیفہ اول اور حضرت خلیفہ مسیح اثنی ایدہ اللہ تعالی نصرہ العزیز دونوں ہی ہمارے امام ہیں۔ایک سابق امام اور ایک موجودہ امام۔اگر ربوہ میں قائم ہونے والے ایک ادارہ کا نام خواہ وہ فن طب سے ہی تعلق رکھتا ہے عملہ ہسپتال کی تجویز پر فضل عمر ہسپتال نام رکھ دیا گیا تو اس میں اندھیر کون سا ہو گیا جس کی وجہ سے اپنے بیما را مام کو سوالوں کی بھر مار سے تنگ کیا جائے؟ خلیفہ کا مقام تو بہت بالا ہے۔اسلام میں تو امام الصلوۃ کا بھی یہ مقام ہے کہ اگر بالفرض اس سے کوئی غلطی ہو جائے ( جیسا کہ نماز پڑھاتے ہوئے بعض اوقات امام سے غلطی ہو جاتی ہے ) تو پھر بھی بہر حال اس کی اقتداء کرنی پڑتی ہے۔تو پھر ناموں جیسے رسمی اور دنیوی امر میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کو تنگ کرنا کتنا نا مناسب اور کتنا معیوب ہے!! ربوہ کی آبادی کا شاندار سہرا بہرحال حضر خلیفہ اسیح الثانی ایدہ الہ کے سر پہ ہے۔پس اگر یہاں کی کسی نئی عمارت میں منتقل ہونے والے ادارہ کا نام حضرت صاحب کے الہامی نام پر رکھا گیا تو اس میں اعتراض کی کونسی بات ہے۔بلکہ یہ امر ہ تخلص کی خوشی کا موجب ہونا چاہئے۔لوگوں کے اعتراض سے حضرت خلیفہ اول کی شان میں تو کچھ اضافہ نہیں ہوتا البتہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کی پریشانی میں ضرور اضافہ ہو جاتا ہے۔