مضامین بشیر (جلد 3) — Page 357
مضامین بشیر جلد سوم 357 قرآن مجید کی آخری دوسورتوں کے متعلق پھر کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں جو گویا گزشتہ سال کی تفسیر کا تقمہ ہے۔اگر دوست اس میں کوئی مفید بات پائیں تو اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔وَمَا تَوْفِيْقَنَا إِلَّا بِاللَّهِ الْعَظِيمِ قرآن مجید جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر 23 سال کے طویل عرصہ میں آہستہ آہستہ نازل ہوا۔حتی کہ اس کے نزول کی رفتار اوسطاً ایک آیت فی یوم سے بھی کم بنتی ہے۔ایک عجیب وغریب کتاب ہے۔قطع نظر دوسری باتوں کے اگر اس کے نزول کی ترتیب اور اس کے مقابل پر اس کی موجودہ ترتیب پر ہی غور کیا جائے تو اس کی تدوین کی بے نظیر حکمت اور اس کی شان کی عدیم المثال بلندی کا پتہ چلتا ہے۔کیونکہ جہاں اس کے نزول کی ترتیب طبعاً پیش آمدہ حالات اور اس کے اول المخاطبین کے کوائف اور حوادث کے مطابق رکھی گئی تھی وہاں اس کی مستقل ترتیب کمال حکمت کے ساتھ دائمی اور عالمگیر نفسیاتی اصولوں پر مبنی قراردی گئی ہے۔یہ اسی مستقل ترتیب کا تقاضا تھا کہ سورہ فاتحہ کو جو قرآن مجید کا خلاصہ ہونے کی وجہ سے گویا اس کی کنجی کا حکم رکھتی ہے۔اس کے نزول کی ترتیب سے ہٹا کر قرآن کے شروع میں رکھ دیا گیا ہے اور دوسری طرف سورۃ فلق اور سورۃ الناس کو جوحضور سرور کائنات کی وفات سے کافی عرصہ پہلے نازل ہوئی تھیں بالکل آخر میں جگہ دی گئی ہے۔اس خاص ترتیب کی غرض وغایت یہ ہے کہ تا قرآن کی طرف آنے والا سالک راہ ،سورہ فاتحہ کے دلکش نقوش سے متاثر ہو کر پیچھے ہٹنے کی طاقت نہ پائے اور ایک زبردست مقناطیسی کشش کی طرح اس کی طرف بے اختیار کھنچا چلا جائے۔دوسری طرف سورہ فلق اور سورۃ الناس کو اس لئے قرآن کے آخر میں رکھا گیا ہے کہ تا قرآن کے مطالعہ سے فارغ ہونے والا انسان اس کی ظاہری تلاوت ختم کرنے کے بعد بھی اس کی روحانی زنجیروں میں جکڑا ر ہے اور اس سے جدا ہونے کے خطرات سے خوف کھائے۔گویا جہاں سورہ فاتحہ اپنی بے نظیر دلکشی کے ذریعہ باہر سے آنے والوں کو اندر کی طرف کھینچتی ہے وہاں یہ آخری دوسورتیں جن کے متعلق میں اس وقت کچھ بیان کرنے لگا ہوں اندر والوں کو اپنی مضبوط چار دیواری میں محفوظ کر کے باہر جانے سے روکتی ہیں۔اسی لئے ان دونوں سورتوں کا نام مُعَوَّذَتَين رکھا گیا ہے۔یعنی قرآن کی دو پناہ گاہیں یا قرآن پڑھنے والوں کے لئے دو تعویذ۔اب ظاہر ہے کہ انسان کو مدنی الطبع یعنی سوشل رجحانات رکھنے والا بنایا گیا ہے اور اسی وجہ سے اسلام میں رہبانیت یعنی ترک دنیا منع ہے۔اس سے انسان کو دین داری اور تقرب الی اللہ کی سعی کے باوجود لازماً دنیا کے کاموں میں بھی حصہ لینا پڑتا ہے اور خدا کے رستہ کا سالک بننے کے ساتھ ساتھ دنیا کے تعلقات بھی