مضامین بشیر (جلد 3) — Page 355
مضامین بشیر جلد سوم 355 کے نزول کا وجود پایا جانا ہر گز یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہ نعوذ باللہ اسلام کے مقابل پر سچے ہیں بلکہ اس سے صرف اور صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ خدا رَبُّ العالمین ہے اور اس کی ربوبیت کی وسعت اس بات کی متقاضی ہے کہ ہر قوم بہ قدر مراتب اس کی وسیع رحمت سے حصہ پائے۔تا کہ نہ صرف عام مخلوق کے ساتھ خدا کی خدائی کا تعلق قائم رہے بلکہ یہ تعلق لوگوں کے دلوں میں خدائی رحمت کی شناخت کے لئے ایک علامت کا بھی کام دے۔جس سے وہ حق کی طرف راہ پانے میں مدد حاصل کریں۔باقی رہا اسلام اور دوسرے مذاہب میں فرق اور ما بہ الامتیاز کا سوال۔سوجیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا ہے یہ فرق دو طرح سے قائم ہوتا ہے۔اول درجہ کے لحاظ سے یعنی جہاں ایک مذہب روحانی دولت میں امیر کبیر ہوتا ہے وہاں دوسرا گویا پیسہ پیسہ گنے والا گدائی پوش فقیر۔جسے یہ نعمت محض طفیلی رنگ میں حاصل ہوتی ہے۔دوسرے بالمقابل اقتدار کا فرق ہے کہ جہاں جہاں بھی اور جب جب بھی ایسی دونوں قوموں کا باہم مقابلہ پیش آتا ہے وہاں لازماً سچاند ہب غالب آتا ہے اور جھوٹا مذ ہب دُم دبا کر بھاگ جاتا ہے۔جیسا کہ حضرت موسیٰ کے مقابلہ پر فرعون کے جادوگر مغلوب ہوئے یا جیسا کہ حضرت مسیح ناصری کی معجز نمائی کے مقابلہ پر فریسیوں اور صدوقیوں کی نام نہاد روحانی طاقت نے منہ کی کھائی۔یا جیسا کہ حضرت سرور کائنات خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم (فدا نفسی) کے مقابلہ پر یہودیوں کاسحر اور دیگر اقوام عالم کا طلسم خاک میں مل گیا۔یا جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقابل پر ڈوئی کی مزعومہ قدرت نمائی اور لیکھرام کی باطل تعلی جھاگ کی طرح بیٹھ گئی۔یا جیسا کہ خدا کے فضل سے اب بھی جو مدعی بھی اسلام اور احمدیت کے مقابل پر کھڑا ہوگا وہ انشاء اللہ روحانی طور پر مغلوب و مقہور ہوگا۔وَ ذَالِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَظِيم نوٹ: بیمختصر سا مضمون میں نے صرف دعاؤں کی قبولیت اور نشا نہائے رحمت کے سوال کے متعلق اصولی رنگ میں لکھا ہے۔ورنہ اسلام کی صداقت میں بے شمار دوسرے شواہد بھی موجود ہیں جن کے ذکر کی اس جگہ ضرورت نہیں۔( محررہ 29 اپریل 1956 ء ) روزنامه الفضل ربوه 3 مئی 1956ء)