مضامین بشیر (جلد 3) — Page 354
مضامین بشیر جلد سوم 354 میں قلت اور کثرت کی بناء پر فرق اتنا ظاہر و نمایاں ہے کہ کوئی شخص ایک لمحہ کے لئے بھی اس میں شبہ نہیں کر سکتا۔پس پہلا فرق تو درجہ کا فرق ہے کہ جہاں ایک حقیقی طور پر خدا رسیدہ انسان دعاؤں کی قبولیت اور خدائی رحمت کے نزول میں گویا آسمان کا روشن ستارا بن جاتا ہے وہاں اس کے مقابل پر ایک دنیا دار جو استثناء کے رنگ میں محض قلیل طور پر ایسا انعام پاتا ہے وہ ایک معمولی لائین سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔پس ظاہری اشتراک کے باوجود دونوں کا فرق ظاہر و عیاں ہے۔دوسرا فرق بالمقابل اقتدار سے تعلق رکھتا ہے۔یعنی باوجود اس کے کہ ہر دو فریق میں کم و بیش دعا کی قبولیت اور خدائی رحمت کے نشانوں کا وجود پایا جاتا ہے مگر جب بھی وہ ایک دوسرے کے مقابل پر آتے ہیں تو فرعون کے جادوگروں کی طرح ( جو بظاہر اپنے فن میں ماہر تھے ) باطل پرستوں کا سحر خاک ہو کر اڑ جاتا ہے۔بے شک فرعون کے ساحروں کے پاس بھی ایک قسم کا چلتا ہوا جاد وموجود تھا۔جس نے شروع میں دیکھنے والوں کے دلوں میں بلکہ خود حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دل میں بھی خوف کی کیفیت پیدا کر دی۔مگر جب حضرت موسی نے خدائی طاقت اور خدائی معجز نمائی سے اپنا ہاتھ چلایا تو ان جادوگروں کا جادو جھاگ کی طرح بیٹھ کر ختم ہو گیا۔یہ اقتدار والا فرق اتنا ظاہر وباہر ہے کہ ایک اندھا بھی اس کے وجود سے انکار نہیں کرسکتا۔یہ وہ چیز ہے جو كَتَبَ اللهُ لَا غُلِبَنَّ أنَا وَرُسُلِى (المجادله : 22) “ کے دائمی وعدہ کے مطابق ہر نبی کے زمانہ میں ظاہر ہوتی رہی ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے اس لطیف شعر میں اشارہ فرماتے ہیں کہ : قدرت سے اپنی ذات کا دیتا ہے حق ثبوت اس بے نشاں کی چہرہ نمائی یہی تو ہے جس بات کو کہے کہ کروں گا میں یہ ضرور ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ( در شین اردوصفحه 150) اور دوسری جگہ فرماتے ہیں: ہے خدا رسوا کرے گا تم کو میں اعزاز پاؤں سنواے منکرو! اب یہ کرامت آنے والی ہے خدا کے پاک بندے دوسروں پر ہوتے ہیں غالب مری خاطر خدا سے یہ علامت آنے والی ( در مشین اردو صفحہ 86) ہے خلاصہ کلام یہ کہ اسلام سے باہر دوسری قوموں اور دوسرے مذہبوں میں دعا کی قبولیت یا خدائی رحمت