مضامین بشیر (جلد 3) — Page 353
مضامین بشیر جلد سوم 353 رحمت سے کلی طور پر منقطع نہ ہو جائیں۔یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ تا دوسری قوموں میں خدائی رحمت کی چاشنی کا احساس موجود رہے اور وہ اس کو چہ کے بالکل ہی نابلد نہ ہوجائیں اور تاوہ بچے مذہب کی شناخت اور خدائی نصرت کی علامات کو پہچان کر صداقت کی طرف رہنمائی پاسکیں اور ان کے لئے سبب سے مسبب کی طرف جانے کا رستہ کھلا رہے۔اس حقیقت کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی مشہور و معروف تصنیف ” حقیقۃ الوحی“ کے شروع میں بڑی تفصیل اور وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔جہاں حضور لکھتے ہیں کہ گو کثرت الہامات اور کثرت اظہار علی الغیب اور کثرت نزول رحمت سے صرف انبیاء کا پاک گروہ ہی مشرف ہوتا ہے لیکن اپنی رحمت کی علامات سے روشناس رکھنے اور اپنے رب العالمین ہونے کے ثبوت کے طور پر اللہ تعالیٰ کبھی کبھی دوسرے لوگوںکو بھی چی خوا میں دکھا دیتا اور بھی بھی بچے الہاموں سے مشرف فرماتا ہے۔حتی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہاں تک لکھا ہے کہ ممکن ہے کہ کبھی ایک فاسق فاجر کو بھی سچا الہام ہو جائے۔یا کبھی اس کی مضطر بانہ دعا قبولیت کو پہنچ جائے۔یا کبھی وہ اپنی ذات یا اپنے عزیزوں میں کوئی خدائی رحمت کا نشان دیکھ لے وغیرہ وغیرہ۔چنانچہ ہمارے ماموں جان مرحوم حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے اپنی لطیف کتاب ” آپ بیتی میں ایک ہندو بنئے اور اس کی بیوی کا واقعہ لکھا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کی درد مندانہ چیخ و پکار کوسن کر انہیں انتہائی مایوسی کی حالت میں اولاد کی نعمت سے نوازا۔باقی رہا یہ سوال کہ اگر دنیا پرستوں بلکہ باطل مذہب کے ماننے والوں کی دعائیں بھی قبول ہوسکتی ہیں اور ان کو بھی بچے خوابوں اور خدائی رحمت کے نشانوں سے حصہ مل سکتا ہے تو پھر اسلام کی خصوصیت کیا رہی اور حق و باطل میں کون سا فرق باقی رہا ؟ تو اس کا جواب اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ یہ فرق دو عظیم الشان امتیازی نشانوں کے ذریعہ پھر بھی قائم رہتا ہے اور یہ امتیازی نشان اتنے روشن اور اتنے نمایاں ہیں کہ کوئی دانا شخص ان سے انکار کی جرات نہیں کرسکتا۔پہلا امتیازی نشان درجہ کے فرق سے تعلق رکھتا ہے۔یعنی جہاں بچے مذہب کے بچے متبعین میں دعا کی قبولیت اور خدا کی رحمت کے نزول کے نشانات بہت زیادہ کثرت اور بڑی شان و شوکت سے رونما ہوتے ہیں وہاں دوسروں میں اس روحانی نعمت کا وجود بہت کم تعداد میں اور نسبتاً بہت ادنیٰ حالت میں ظاہر ہوتا ہے۔اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے مثلاً سوروپے کا مالک بھی دولت رکھنے والا سمجھا جاتا ہے اور لاکھ روپے کا مالک بھی دولت مند کہلاتا ہے۔کیونکہ علم اقتصادیات کی رو سے سو روپیہ اور لاکھ روپیہ دونوں دولت ہیں مگر دونوں