مضامین بشیر (جلد 3) — Page 349
مضامین بشیر جلد سوم 349 حالات کے مطابق ان ذمہ داریوں کو بصورت احسن ادا کر کے اپنے لئے رمضان کے مہینہ میں رحمت اور برکت کا دروازہ کھولیں گے۔دعاؤں میں خصوصیت سے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی صحت اور دراز کی عمر اور بیش از پیش خدمات اور برکات کے علاوہ جماعت کی ترقی اور جماعت کے ہر دو مراکز قادیان اور ربوہ کے لئے بھی خاص طور پر دعائیں کی جائیں۔یہ تو رمضان کی ذمہ داریاں تھیں، باقی رہے رمضان کے فیوض۔سوان کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں دو باتوں کا خاص طور پر ذکر فرماتا ہے۔اول دعاؤں کی مخصوص قبولیت جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ : إِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (البقره: 187) یعنی میں رمضان کے مہینہ میں اپنے بندوں کے زیادہ قریب ہو جاتا ہوں اور ان کی زیادہ دعائیں قبول کرتا ہوں اور پھر رمضان کے آخری عشرہ میں ایک ایسی مبارک رات آتی ہے جس میں دعا کی قبولیت گویا اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے اور دوم قلوب میں تقویٰ کی روح کا پیدا ہونا جو اعمال صالحہ کی جان اور گویا ہر نیکی کی جڑ ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے: كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ۔۔۔لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقره: 184) یعنی ہم نے روزہ اس لئے فرض کیا ہے کہ تا اے مسلمانو! اس ذریعہ سے تمہارے قلوب میں تقویٰ پیدا ہو۔رمضان کے یہ دو فوا ئد یعنی دعا کی قبولیت اور تقویٰ کا حصول اتنے عظیم الشان فوائد ہیں کہ اگر غور کیا جائے تو دنیا و مافیہا کا سودا بھی اس کے مقابل پرستا ہے۔پس میں اپنے بھائیوں اور بہنوں سے دردمندانہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ رمضان کے دونوں پہلوؤں یعنی ذمہ داریوں اور فیوض سے پورا پورا فائدہ اٹھائیں۔بعض احباب نے رویا میں دیکھا ہے کہ دوستوں کو چاہئے کہ اس رمضان میں زیادہ سے زیادہ دعائیں کر کے اور زیادہ سے زیادہ عبادت بجالا کر خدائی برکات حاصل کریں۔کیونکہ اس کے بعد غالباً کچھ وقت تک ایسے امن کا رمضان میسر نہ آسکے گا۔بے شک خوا ہیں تعبیر طلب ہوتی ہیں اور ٹل بھی جاتی ہیں مگر کون کہہ سکتا ہے کہ وہ اگلے رمضان تک زندہ رہے گا۔پس بہر حال ہمارے دوستوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس زرین ہدایت کو کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ: ع اے بے خبر بخدمت فرقاں کمر ہند زاں پیشتر، که بانگ بر آید فلاں نماند (درشین فارسی ص279)