مضامین بشیر (جلد 3) — Page 348
مضامین بشیر جلد سوم 348 رمضان کی مخصوص ذمہ داریوں اور رمضان کے مخصوص فیوض کے متعلق تحریک کی تھی اور مجھے خوشی ہے کہ جماعت کا ایک طبقہ اس معاملہ میں توجہ دے کر رمضان کی برکات سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔میں نے لکھا تھا جسے اب یاد دہانی کی غرض سے اس مختصر نوٹ میں کسی قدر ازادی کے ساتھ دہرا رہا ہوں کہ یہ مبارک مہینہ اپنے ساتھ بعض خاص ذمہ داریاں لاتا ہے۔یہ ذمہ داریاں یوں تو بہت سی ہیں مگران میں ذیل کی دس ذمہ داریاں خاص توجہ کے قابل ہیں: (1) دن کے وقت روزہ رکھنا اور سحری سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے اور بیوی کے پاس جانے سے پر ہیز کرنا۔(2) رات کو تہجد یا تراویح کی نفل نماز ادا کرنا۔(3) دن کے اوقات میں بھی حتی الوسع زائد نفلی نماز خصوصا صحی یعنی اشراق کی نماز کا التزام کرنا (4) تلاوت قرآن مجید کی پابندی۔اگر رمضان کے مہینے میں دوبار قرآن ختم کیا جا سکے تو بہتر ہے۔(5) ہر قسم کے لغو اور جھوٹ اور غیبت وغیرہ سے پر ہیز کرنا۔(6) صدقات و خیرات کے ذریعہ اپنے غریب بھائیوں اور بہنوں کی زیادہ سے زیادہ امداد کرنا۔اسلام نے رمضان میں صدقہ و خیرات پر خاص زور دیا ہے۔(7) رمضان کے آخر میں اور عید سے قبل فطرانہ یعنی صدقۃ الفطر ادا کرنا جو اس سال قریباً ساڑھے پانچ آنے فی کس بنتا ہے۔(8) رمضان کے مہینہ میں دعاؤں اور تضرعات پر خاص زور دینا اور دعاؤں میں انفرادی اور جماعتی ہر دو قسم کی دعاؤں کو ملحوظ رکھنا۔(9) دن رات کی گھڑیوں میں ذکر الہی کی طرف زیادہ توجہ دینا جس میں کلمہ شہادت اور سُبحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيْمِ اور استغفارکو نمایاں مقام حاصل ہے اور بالا آخر (10) جن احباب کو توفیق ہو ان کا رمضان کے آخری عشرہ میں مسنون طریق پر کسی مسجد میں اعتکاف بیٹھ کر اور دنیا سے کٹ کر عبادت اور دعاؤں کے لئے گویا کلیتہ وقف ہو جانا جو ایک قسم کی وقتی اور جزوی رہبانیت ہے۔یہ وہ دس خاص ذمہ داریاں ہیں جو رمضان کے مہینہ میں مومن مردوں اور عورتوں پر عائد ہوتی ہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ نہ صرف ربوہ کے احمدی احباب بلکہ تمام مقامی جماعتوں کے دوست اپنے اپنے