مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 347 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 347

مضامین بشیر جلد سوم خود قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کے متعلق فرماتا ہے کہ: 347 فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِين (البقره: 48، 123 ) یعنی ہم نے تمہیں تمام عالموں پر فضیلت دی ہے۔حالانکہ اس سے تمام زمانے اور تمام قوموں کے لوگ ہر گز مراد نہیں تھے بلکہ صرف محدود زمانہ اور محدود قوموں کے لوگ مراد تھے۔میری قلبی محبت جو ( فداہ نفسی ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور دیگر انبیاء کے ساتھ ہے اسے میرا خدا جانتا ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ مجھے جاننے والے لوگ بھی جانتے ہیں۔اس کے ہوتے ہوئے میری طرف سے اس معاملہ میں کسی تشریح کی تو ضرورت نہ تھی لیکن چونکہ ایک دوست نے لکھا ہے اس لئے یہ مختصر تشریحی نوٹ الفضل میں بھجوا رہا ہوں۔پھر یہ نکتہ بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ انبیاء کی محبت ہمیں ان خوبیوں اور اوصاف حمیدہ کی طرف سے غافل نہیں کر سکتی جو نبیوں کے خلفاء اور ان کے ممتاز صحابہ میں پائی جاتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے: ”ماہمہ پیغمبراں را چا کریم حضور چونکہ خود خدا کے مامور ومرسل تھے اس لئے حضور کو یہی الفاظ زیب دیتے تھے۔کیونکہ نبیوں کا مقدس گروہ اپنے مقاصد کے لحاظ سے ایک دوسرے کا خادم بھی ہوتا ہے اور مخدوم بھی۔لیکن میرے جیسے عاجز اور گنہگار بندہ کے لئے تو اصل نعرہ حق یہ ہے کہ ہم سب پیغمبروں اور ان کے خلفاء اور صحابہ اور جملہ اولیاءاور صلحاء کے چاکر ہیں اور اسی کو اپنے لئے سب فخروں سے بڑا فخر سمجھتے ہیں۔وَاللَّهُ عَلَىٰ مَا أَقُولُ شَهِيدٌ ( محررہ 29 اپریل 1956ء )۔۔۔۔۔۔۔۔روزنامه الفضل ربوه 2 مئی 1956ء) رمضان کی خاص دعائیں اور اس مہینہ میں کمزوری ترک کرنے کا عہد رمضان کے شروع میں میں نے ایک مختصر سے نوٹ کے ذریعہ احباب جماعت کی خدمت میں