مضامین بشیر (جلد 3) — Page 343
مضامین بشیر جلد سوم آمِينَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ - وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَظِيم ( محررہ 12 اپریل 1956ء ) 8۔۔۔۔۔۔۔فدیہ رمضان کی رقوم 343 (روز نامہ الفضل 18 اپریل 1956ء) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے رمضان کی آمد پر فدیہ کے حوالہ سے ایک نوٹ اخبار الفضل میں شائع کروایا۔جس کا کچھ حصہ تو محض اعلان تحریک تھا۔مگر ایک حصہ میں فدیہ کی اہمیت بیان ہوئی ہے جو درج ہے۔۔۔۔دوستوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ فدیہ رمضان ان لوگوں کے لئے ہے جو کسی طویل بیماری یا لمبی معذوری کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتے یا وہ ایسی مستورات کے لئے ہے جو حمل یا رضاعت کی وجہ سے معذور ہیں۔ورنہ وقتی معذوری یعنی سفر اور عارضی بیماری کی صورت میں فدیہ کی بجائے دوسرے ایام میں روزہ رکھنے کا حکم ہے۔لیکن بعض علماء اور اولیاء نے اس بات کو پسند کیا ہے کہ اگر تو فیق ہو تو دونوں صورتوں میں فدیہ ادا کر دینا بہتر ہے۔مگر بہر حال فتویٰ وہی ہے جو او پر لکھا گیا ہے۔۔۔( محررہ 14 اپریل 1956ء)۔۔۔۔۔۔۔روزنامه الفضل ربوہ 18 اپریل 1956ء) مولوی عبدالسلام صاحب عمر کی وفات حسرت آیات اور حضرت خلیفہ اول کا عدیم المثال مقام محبت عزیزم مکرم مولوی عبدالسلام صاحب عمر کی وفات کا حادثہ کئی لحاظ سے بہت دردانگیز واقعہ ہے۔اول تو وہ حضرت خلیفہ اسی الاول کے بڑے صاحبزادے تھے اور حضرت خلیفہ اول کا جو مقام جماعت میں تھا وہ ظاہر وعیاں ہے۔جس پر کسی دلیل یا کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے