مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 344 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 344

مضامین بشیر جلد سوم 344 اپنی تصنیفات اور اپنے مکاتیب میں حضرت خلیفہ اول کے علم و عرفان اور آپ کے تقوی وطہارت اور جذبہ خدمت اور جذبہ اطاعت کی ایسے رنگ میں تعریف فرمائی ہے کہ اسے پڑھ کر ایک مومن کی روح وجد میں آنے لگتی ہے۔حقیقتا حضرت خلیفہ اول کا مقام تو کل اور مقام زہد و تصوف عدیم المثال تھا اور جماعت احمدیہ میں قرآن کی محبت پیدا کرنے اور پھر نظام خلافت کے استحکام کے تعلق میں آپ نے جو خدمات سرانجام دیں وہ بھی اپنے رنگ میں نظیر نہیں رکھتیں۔ایسے عالی مرتبہ باپ کا فرزند اس بات کا حق رکھتا ہے کہ قطع نظر دوسرے حالات کے اس کی وفات پر جتنا صدمہ بھی محسوس کیا جائے وہ کم ہے۔اس کے علاوہ مولوی عبد السلام صاحب عمر کا اپنی والدہ صاحبہ محترمہ حضرت اماں جی کی وفات کے اس قد رجلد بعد وفات پانا اور پھر گویا نسبتا جوانی کی عمر میں وفات پانا اور پھر وفات کا اس قدرا چانک واقعہ ہونا کہ جماعت کو ان کی بیماری کا بھی علم نہیں ہو سکا اور پھر ان کا اپنے پیچھے تیرہ کس خوردسالہ اولاد کا چھوڑ نا جن میں سے اکثر ا بھی زیر تعلیم ہیں اور سوائے دولڑکیوں کے ابھی تک ان میں سے کوئی شادی شدہ نہیں۔یہ سب ایسے واقعات ہیں جو اس صدمہ۔کو بہت بھاری بنا دیتے ہیں۔عزیزم مولوی عبدالوہاب صاحب عمر نے اپنے حالیہ مضمون شائع شدہ الفضل میں مولوی عبد السلام صاحب عمر کی زندگی کے بعض واقعات اور ان کے اخلاق کے بعض پہلو بیان کئے ہیں۔جن کے اعادہ کی اس جگہ ضرورت نہیں۔میں صرف اس دلی محبت اور قدرو منزلت کی وجہ سے جو میرے دل میں حضرت خلیفہ اسیح الاول کی ذات والا صفات کے ساتھ تھی اور ہے اس جگہ صرف ایک واقعہ جو مولوی عبد السلام صاحب کی بچپن کی زندگی سے تعلق رکھتا ہے بیان کرنا چاہتا ہوں۔کیونکہ اس سے حضرت خلیفہ اول کی اس بے پناہ محبت پر بھی روشنی پڑتی ہے جو آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات کے ساتھ تھی۔ہماری ہمشیرہ مبارکہ بیگم صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ ابھی مولوی عبدالسلام مرحوم غالبا چار سال کے تھے اور خود ہمشیرہ مبارکہ بیگم بھی ابھی چھوٹی تھیں کہ ایک دفعہ وہ حضرت خلیفہ اول کے مکان پر قرآن وحدیث کا سبق پڑھنے کے لئے گئیں۔اس وقت اتفاق سے ہمشیرہ کے پاس بچپن کی عمر کے مطابق کچھ دانے اخروٹ کے تھے۔مولوی عبدالسلام صاحب عمر نے خورد سالی کی بے تکلفی میں ہمشیرہ سے کچھ اخروٹ مانگے اور ساتھ ہی سادگی اور محبت کے رنگ میں کہا کہ ” میں آپ کا نوکر ہوں ہمشیرہ بیان کرتی ہیں کہ اس وقت اتفاق سے مولوی عبد السلام صاحب کے بڑے بھائی مولوی عبدالحی صاحب مرحوم بھی قریب ہی کھڑے تھے۔انہوں نے مولوی عبدالسلام صاحب کے یہ الفاظ ( کہ میں آپ کا نوکر ہوں ) سنے تو خود داری کے رنگ میں مولوی