مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 342 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 342

مضامین بشیر جلد سوم 342 کے سوز و گداز اور روح کے درد و کرب کے ساتھ کی جائے اور دعا کرنے والا اس یقین سے معمور ہو کہ میرا خدا واقعی ہر بات پر قادر ہے اور پھر دعا کرتے ہوئے وہ اس پختہ اور زندہ یقین پر قائم ہو کہ اس وقت میں خدا کو دیکھ رہا ہوں اور خدا مجھے دیکھ رہا ہے۔کیونکہ اس یقین کے بغیر دعا میں صحیح قلبی کیفیت ہرگز پیدا نہیں ہو سکتی۔(6) ضمنا میں اس جگہ یہ بات بھی لکھنا چاہتا ہوں کہ جیسا کہ میں اپنے متعدد گزشتہ مضمونوں میں تحریک کر چکا ہوں دوستوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تجویز کے مطابق رمضان میں اپنی کسی کمزوری کو سامنے رکھ کر اس کے دور کرنے کا دل میں پختہ عہد بھی کرنا چاہئے۔تاکہ رمضان کی برکات عملاً بھی معین صورت میں رونما ہوجائیں۔نماز ادا کرنے میں ستی ، روزہ رکھنے میں ستی، چندوں میں ستی ، وصیت کرنے میں ستی ، مرکز میں بار بار آنے میں سستی ، سلسلہ کا لٹریچر مطالعہ کرنے میں سستی، پیغام حق پہنچانے میں ستی، رشوت لینے یا دینے کے بارہ میں کمزوری ، سود لینے یا دینے کے معاملہ میں بے احتیاطی ، گالی گلوچ کی عادت ، غیبت کی عادت، بدنظری کی عادت، حقہ یا سگریٹ پینے کی عادت ، داڑھی منڈانے کی عادت ، لین دین میں بددیانتی ،امانت میں خیانت، جھوٹ بولنے کی عادت ، تجارت میں دھوکہ دہی ، بچوں کی تربیت کے معاملہ میں غفلت وغیرہ وغیرہ بیسیوں قسم کی کمزوریاں ہیں جن میں کمزور طبیعت کے لوگ ماحول کے اثر کے ماتحت مبتلا ہو جایا کرتے ہیں۔ان میں سے کسی ایک کمزوری کے متعلق خدا کے ساتھ دل میں عہد کیا جائے کہ میں آئندہ اس کمزوری سے اجتناب کروں گا اور پھر اس عہد کو مومنانہ پختگی اور عزم بالجزم کے ساتھ نبھایا جائے۔کسی دوسرے کے سامنے اپنی کمزوری کے اظہار کی ضرورت نہیں کیونکہ ایسا کرنا خدا کی ستاری کے خلاف ہے۔صرف خدا کے حضور دل میں عہد کیا جائے۔(7) بالآخر میں پھر حضرت خلیفہ اسی الثانی ایدہ اللہ نصرہ العزیز کے لئے دوستوں کو خاص طور پر دعا فضلوں اور کرنے کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔حضور کے زمانہ خلافت کو جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص خاص تجلیات سے نوازا ہے اور پھر جس طرح حضور کے متعلق خدا تعالیٰ کے عظیم الشان وعدے ہیں ان کے پیش نظر جماعت کے ہر مخلص دوست کا فرض ہے کہ وہ حضور کے متعلق اس رمضان میں خصوصیت کے ساتھ دعائیں کرے۔تا اللہ تعالیٰ نہ صرف حضور کو کامل صحت عطا کرے اور نہ صرف حضور کی عمر میں برکت دے بلکہ حضور کی خلافت کی برکات اور فیوض کو پہلے سے بھی بڑھ چڑھ کر ظاہر فرمائے اور حضور کے ذریعہ دنیا میں اسلام اور احمدیت کا بول بالا ہو۔