مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 341 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 341

مضامین بشیر جلد سوم 341 (3) دعاؤں میں (الف) اسلام اور احمدیت کی ترقی (ب) حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی صحت اور درازی عمر اور بیش از پیش خدمت کی زندگی (ج) اہلِ قادیان اور اہلِ ربوہ کی حفاظت اور دینی و دنیوی بهبودی (د) مبلغین جماعت اور مرکزی اور مقامی کارکنوں کے لئے نصرت الہی کے نزول اور (۵) موجودہ نازک اور پر آشوب ایام میں جماعت احمدیہ کی مجموعی حفاظت اور ترقی کی دعاؤں کو سب دوسری دعاؤں پر مقدم کرنا چاہئے۔کیونکہ یہ وہ مقاصد ہیں جو اس زمانہ میں خود ذات باری تعالیٰ کے اپنے مقاصد ہیں۔(4) ان دعاؤں سے اُتر کر ذاتی دعائیں یعنی جماعت کے بیماروں کی شفایابی ، مصیبت زدوں کی مصیبت سے نجات ، بے روزگاروں کی روزگار، مقروضوں کی قرض سے رہائی ، امتحان دینے والوں کی امتحان میں کامیابی وغیرہ وغیرہ کے لئے بھی ضرور دعائیں کی جائیں۔کیونکہ ان دنیوی نعمتوں کا حصول بھی انسان کے اطمینان قلب کا بھاری ذریعہ ہے۔اسی طرح ہمارے خاندان میں بھی ایک عرصہ سے بیماریوں اور پریشانیوں کا سلسلہ چل رہا ہے اس کے لئے بھی دعا فرمائی جائے اور یہ بھی کہ خدا تعالیٰ ہمارے خاندان کے افراد کو جماعت کے لئے بہترین روحانی اور اخلاقی نمونہ بننے کی توفیق دے اور ہماری کمزوریوں کو دور فرمائے۔ان ایام میں مجھے کراچی کے امیر جماعت عزیزم مکرم چوہدری عبد اللہ خان صاحب کی طرف سے تار پہنچی ہے جس میں انہوں نے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی صحت اور درازی عمر اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے دعاؤں کی تحریک کرنے کے علاوہ کراچی کی جماعت اور خود اپنے اور اپنے اہل وعیال کے لئے دعا کی تحریک کی ہے۔سو دوست اس مخلص جماعت اور اس جماعت کے مخلص خادم دین امیر کو بھی اپنی خاص دعاؤں میں یا درکھیں۔اسی طرح امریکہ سے بھی سید عبد الرحمن صاحب کی تار آئی ہے۔وہ ایک عرصہ سے بعض مشکلات میں مبتلا ہیں۔دوست اپنے اس نیک اور مخلص بھائی کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔اس کے علاوہ کثیر التعداد دوستوں ( بہنوں اور بھائیوں) نے بھی خطوط کے ذریعہ دعا کی تحریک کی ہے۔اللہ تعالیٰ ان سب کے نیک مقاصد میں کامیابی عطا فرمائے اور دین و دنیا میں ان کا حافظ و ناصر ہو۔(5) دعاؤں کے معاملہ میں یہ اصول بھی ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ گوجیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا ہے دعا ایک بہت بھاری روحانی طاقت ہے۔مگر وہی دعا، دعا کہلانے کا حق رکھتی ہے جو رسمی رنگ میں نہیں دل