مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 340 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 340

مضامین بشیر جلد سوم 340 دعاؤں کی تحریک کرتا رہا اور اس تعلق میں لمبے لمبے مضامین لکھتا رہا ہے۔مگر اب میری موجودہ صحت لمبے مضامین کی اجازت نہیں دیتی اس لئے ذیل کے مختصر مضمون پر اکتفا کرتا ہوں۔وَإِنَّمَا إِلَّا عُمَالُ بِالنِّيَّاتِ وَلِكُلِّ لِامرىءٍ مَانَوَى (1) انسان کی زندگی کا کوئی اعتبار نہیں اور معلوم نہیں کہ اگلے سال رمضان کا مبارک مہینہ دیکھنا نصیب ہوتا ہے اور کون اس سے پہلے ہی اپنے آسمانی آقا کے پاس پہنچ جاتا ہے۔اس لئے اس فرصت کو غنیمت جانتے ہوئے دوستوں کو چاہئے کہ روزہ اور نفل نماز اور تراویح اور تلاوت قرآن مجید اور صدقہ و خیرات اور درد بھری دعاؤں اور آخری عشرہ کے اعتکاف کے ذریعہ اس مبارک مہینہ کی برکات اور فیوض سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔صدقہ و خیرات کے لئے رمضان کے ابتدائی ایام اور پھر آخری عشرہ کے دن جب کہ عید قریب ہوتی ہے زیادہ مناسب اوقات ہیں۔کیونکہ اس سے غریب بھائیوں کو رمضان اچھی طرح گزار نے اور پھر عید کی تیاری کے لئے مددمل جاتی ہے۔صدقہ خواہ مقامی طور پر کیا جائے اور خواہ مرکز میں بھجوا دیا جائے دونوں طرح مقبول و مبارک ہے۔لیکن بہر حال اپنے ماحول کے غریبوں کو کسی صورت میں نہیں بھولنا چاہئے کیونکہ ہمسائیگی کی وجہ سے ان کا دُہراحق ہے۔(2) دعاؤں پر اسلام نے جو زور دیا ہے وہ ظاہر و عیاں ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو اسے اپنا ایک خاص ہتھیار قرار دیا ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں: دعا میں خدا تعالیٰ نے بڑی قوتیں رکھی ہیں۔خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار بذریعہ الہامات کے یہی فرمایا ہے کہ جو کچھ ہوگا دعا ہی کے ذریعہ سے ہوگا۔ہمارا ہتھیار تو دعا ہی ہے اور اس کے سوائے اور کوئی ہتھیار میرے پاس نہیں۔جو کچھ ہم پوشیدہ مانگتے ہیں خدا اس کو ظاہر کر کے دکھا دیتا ہے“ ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 36) دراصل دعا ایک عظیم الشان روحانی ایٹم بم ہے جسے دشمن کی تباہی اور دوستوں اور عزیزوں کی آبادی اور ترقی کے لئے عدیم المثال طاقت حاصل - ہے۔دعا کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عام سنت یہ تھی کہ دعا کے شروع میں عموماً سورۂ فاتحہ پڑھتے تھے اور اس کے بعد جو دعا مانگنی ہوتی تھی مانگتے تھے۔سورۂ فاتحہ کے پڑھنے میں بڑی برکت ہے اور دوستوں کو ہمیشہ یہ گر مد نظر رکھنا چاہئے بلکہ اگر سورہ فاتحہ کے بعد دوسری دعا شروع کرنے سے پہلے درود بھی پڑھ لیا جائے تو گویا یہ سونے پر سہا گہ ہوگا۔