مضامین بشیر (جلد 3) — Page 314
مضامین بشیر جلد سوم 314 ان دو حوالوں سے ظاہر ہے کہ مصلح موعود کے لئے یہ ایک علامت مقرر تھی کہ وہ دنیا کے کناروں تک شہرت پائے گا اور اس کی تبلیغ کے ذریعہ دنیا بھر کی تو میں اس سے برکت پائیں گی اور خصوصاً ایسی قوموں تک حق و صداقت کا پیغام پہنچے گا جو ابھی تک گویا کنواری ہیں۔یعنی اسلام کے پیغام سے نابلد ہیں اور حضرت مسیح ناصری کے کچھ عرصہ بعد سے بگڑ کر حقیقی تو حید سے محروم ہو چکی ہیں۔اب ان دو علامتوں کے ذریعہ جماعت کی ذمہ داری واضح ہے۔جو یہ ہے کہ وہ اپنے امام کی ایسے رنگ میں نصرت کرے کہ۔(1) دین کو تمکنت اور مضبوطی حاصل ہو جائے۔(2) اسلام اور احمدیت کی موجودہ خوف کی حالت بدل کر امن اور ترقی کی حالت پیدا ہو جائے۔(3) اسلام کا پیغام زمین کے کناروں تک پہنچ جائے۔(4) دنیا بھر کی قوموں اور خصوصاً کنواری ( یعنی Virgin) قوموں کا صداقت کے ساتھ رشتہ ملا کر اور ان کے اندر روح القدس کی تاثیر پہنچا کر انہیں سچے اسلام اور احمدیت کے جھنڈے کے نیچے لایا جائے۔یہ وہ چار کام ہیں جنہیں سرانجام دے کر جماعت احمد یہ اپنے امام کے عظیم الشان مقاصد میں اس کا ہاتھ بٹا سکتی ہے۔لیکن اگر خدانخواستہ وہ اس کام کی طرف سے غافل رہے تو نہ تو اسے اپنے امام کا سچا متبع کہلانے کا حق ہے اور نہ ہی امام کی واپسی پر اس کی خوشی حقیقی سمجھی جا سکتی ہے۔پس میں ہر فر د جماعت سے دردمندانہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے احمدیت کے دعوئی کو سچا ثابت کرتے ہوئے اسلام کی خدمت میں اس طرح لگ جائے کہ گویا یہ سارا بوجھ اس کے سر پر ہے اور ظاہر ہے کہ یہ خدمت صرف اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ ا۔جماعت کے دوست اپنے اندر حقیقی اصلاح پیدا کر کے اسلام کا کامل و مکمل نمونہ بننے کی کوشش کریں۔تا کہ وہ اپنے نمونہ سے لوگوں کو صداقت کی طرف کھینچ سکیں اور اندرونی اصلاح سے جماعت کو بھی مضبوطی اور ترقی حاصل ہو۔ii۔وہ اسلام اور احمدیت کی خدمت کے لئے بڑھ چڑھ کر چندہ دیں۔اور خصوصا تحریک جدید کے چندے کی طرف توجہ دیں۔کیونکہ اس وقت اسی چندہ سے بیرونی مشن چل رہے ہیں اور قوموں کے برکت پانے کا رستہ کھل رہا ہے۔iii۔وہ اپنی خدا دا د طاقتوں اور خدا داد علم کو دین کے رستہ میں بے دریغ خرچ کریں تا کہ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ