مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 315 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 315

مضامین بشیر جلد سوم يُنفِقُونَ کا منشاء پورا ہو۔315 ۱۷۔وہ اپنی زندگیوں کو دین کی خدمت اور اسلام کی اشاعت کے لئے وقف کریں۔تاکہ مجاہدوں کی فوج کے ذریعہ قلیل سے قلیل عرصہ میں اسلام کا پیغام دنیا کے کناروں تک پہنچ جائے اور دنیا کی کنواری قو میں اسلام سے رشتہ جوڑیں اور پھر ۷۔وہ حضرت خلیفہ اسیح کی کامل اطاعت کا نمونہ دکھا ئیں۔تاکہ ساری جماعت کی متحدہ طاقت ایک نقطہ پر جمع ہو جائے اور کوئی گاڑی اپنی ذاتی کمزوری کی وجہ سے اپنے زبر دست انجن کی رفتار کو دھیما نہ کر سکے۔پس بے شک جماعت کے دوست حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کی بخیریت اور با مراد اور کامیاب واپسی پر ظاہری خوشی بھی منائیں کیونکہ ہماری شریعت نے دین و دنیا کی خوشیوں میں روح کے ساتھ جسم کا بھی حصہ رکھا ہے۔لیکن حضور کا حقیقی خیر مقدم یقیناً ان پانچ باتوں پر عمل کرنے میں مضمر ہے جو میں نے اوپر بیان کی ہیں۔پس اے بھائیو اور اے بہنو! آؤ کہ ہم آج کے دن خدا کے ساتھ عہد کریں۔ہاں وہ عهد جو عُرُوه ونٹی کا حکم رکھتا ہو۔کہ ہم اپنے مالوں اور اپنے علموں اور اپنی طاقتوں اور اپنے جسموں اور اپنی روحوں اور اپنی اولادوں کو حضرت خلیفتہ اسی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی اطاعت اور آپ کے بتائے ہوئے پروگرام کو کامیاب بنانے میں بے دریغ خرچ کریں گے۔تاکہ اسلام کا بول بالا ہو اور دنیا کی کنوری قو میں اسلام کے ساتھ شادی رچا کر خدائے واحد کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو جائیں۔اے خدا! تو ایسا ہی کر۔اے ہمارے آسمانی آقا! تو ہمیں توفیق عطا کر کہ ہم تیرے دین کے وفادار خادم اور تیرے خلیفہ کے حقیقی فرمانبردار اور اسلام اور احمدیت کے سچے علم بردار ثابت ہوں۔تا کہ جب ہماری واپسی کا وقت آئے تو تو ہم سے راضی ہو اور ہم تجھ سے راضی ہوں۔آمِيْنَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ اب مجھے صرف حضرت خلیفتہ امیج ایدہ اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے ایک لفظ کہنا ہے اور وہ یہ کہ آپ کی خلافت کے متعلق جس رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خود آپ کی بشارتیں موجود ہیں۔ان سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کے بعد خلافت احمدیہ کا یہ دور ایک سنہری دور ہے۔جو کثیر التعداد اور عظیم الشان برکتوں سے معمور ہے۔اللہ تعالیٰ حضور کی صحت اور عمر اور کام میں خارق عادت برکت عطا کرے۔تا کہ یہ سنہری دور لمبے سے لمبا ہو کر اسلام کی دائمی فتح اور عالمگیر غلبہ کے وقت کو قریب ترلے آئے اور حضور کے وجود باجود سے دنیا بھر کی قومیں برکت پائیں اور حضور کی