مضامین بشیر (جلد 3) — Page 301
مضامین بشیر جلد سوم 301 ان کے تصور سے ہی انسان کے جسم و روح میں ایک خاص کیفیت پیدا ہونے لگتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور قرآن مجید کے ساتھ آپ کا غیر معمولی مقام عشق اور خدا کی ذات واحد پر غیر معمولی تو کل اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اطاعت کا عدیم المثال جذ بہ وہ بلندشان رکھتا ہے جس کے تصور سے میں نے بے شمار دفعہ خاص روحانی سرور حاصل کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت مولوی صاحب کو غیر معمولی محبت اور قدر سے دیکھتے تھے۔چنانچہ ان کے متعلق حضور کا یہ شعر جماعت میں شائع و متعارف ہے کہ:۔چہ خوش بودے اگر ہر یک زامت نور دیں بودے ہمیں بودے اگر ہر دل پر از نور یقیں بودے اور ایک دوسرے موقع پر حضور نے ان کے متعلق لکھا۔جس کے الفاظ غالباً کچھ اس طرح ہیں کہ حضرت مولوی صاحب کا قدم میری اطاعت میں اس طرح چلتا ہے جس طرح دل کی حرکت کے ساتھ نبض چلتی ہے۔یہ ایک بہت بڑا مقام ہے اور ایسے عظیم المرتبت انسان کی رفیقہ حیات کی وفات حقیقتا ایک قومی صدمہ ہے۔اللہ تعالیٰ حضرت اماں جی کو جن کا نام صغری بیگم تھا غریق رحمت کرے اور اگلے جہان میں راحت اور سکون اور برکت اور فضل و رحمت کی زندگی نصیب کرے اور ان کی اولا د عزیزم مکرم مولوی عبدالسلام صاحب عمر اور عزیزم مولوی عبدالوہاب صاحب عمر اور عزیزم مولوی عبد المنان صاحب عمر اور حضرت اماں جی کی مرحومہ بیٹی حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی حرم محترم سیدہ امتہ الحی بیگم مرحومہ کی اولاد کو صبر جمیل عطا کرے۔ان کا دین و دنیا میں حافظ و ناصر ہو اور ان کو اپنے فضل و رحمت سے حسناتِ دارین سے ورح نوازے۔آمِيْنَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ ( محرره 7 اگست 1955ء) روزنامه الفضل 10 اگست 1955ء) حضرت اماں جی مرحومہ کے متعلق ہماری ہمشیرہ کے تاثرات یاد رفتگان کا ایک روح پرور منظر حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ کی وفات پر میرا ایک نوٹ الفضل میں شائع ہو چکا ہے۔