مضامین بشیر (جلد 3) — Page 296
مضامین بشیر جلد سوم 296 اسی طرح اللہ تعالیٰ نے جس رنگ میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کے وجود کے ساتھ اسلام کی ترقی کے وعدے وابستہ فرمائے ہیں اور جس خارق عادت طریق پر اس وقت تک حضور کی خلافت کو اپنی برکتوں سے نوازا ہے۔اس کا یہ تقاضا ہے بلکہ جماعت پر یہ ایک بہت بھاری حق ہے کہ وہ ان ایام میں حضور کی صحت اور درازی عمر کے لئے بھی خاص طور پر دعائیں کرے۔تا کہ حضور کی بابرکت قیادت کا زمانہ لمبے سے لمبا ہو کر اسلام کے غلبہ اور مسلمانوں کی سر بلندی کے وقت کو قریب سے قریب تر لے آئے۔اور خدا ہماری آنکھوں کو ٹھنڈا کرے۔آمِيْنَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔( محررہ 24 جولائی 1955ء) روزنامه الفضل 26 جولائی 1955ء) احباب جماعت کے نام عید الاضحیہ کا پیغام اپنے اندر حقیقی قربانی کی روح پیدا کرو چونکہ میں آج کل اعصابی تکلیف کی وجہ سے جوان ایام میں شدت اختیار کر گئی ہے غالباً عید کی شرکت سے محروم رہوں گا۔اس لئے ان چند سطور کے ذریعہ دوستوں کو عید مبارک کا پیغام پہنچاتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس عید کو اور اس کے بعد آنے والی عیدوں کو اسلام کے لئے اور احمدیت کے لئے اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے لئے اور تمام جماعت کے لئے ہر جہت سے مبارک اور مثمر ثمرات حسنہ کرے۔آمِيْنَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ جیسا کہ دوستوں کو معلوم ہے اسلام میں تین عید میں مقرر کی گئی ہیں۔جو سب کی سب اسلام کی خاص عبادتوں کے ساتھ وابستہ ہیں۔پہلی عید جمعہ کی عید ہے۔جو روزانہ نمازوں کی مخصوص عبادت کے نتیجہ میں ہر ہفتہ میں چکر لگاتی ہے اور مومنوں کے دلوں میں یہ یاد زندہ رکھتی ہے کہ خدا تعالے سے ذاتی تعلق پیدا کرنا اور اس کے ذکر سے اپنی روح اور اپنے دل و دماغ کو تر و تازہ رکھنا ان کا اولین فرض ہے۔دوسری عید ،عید الفطر ہے جو روزوں کی مبارک عبادت کے بعد آتی ہے اور مسلمانوں کو ضبط نفس اور ہمدردی خلق اللہ کا عظیم الشان سبق دیتی ہے۔اور تیسری عید ، عیدالاضحیہ ہے جو حج کی مخصوص عبادت کے ساتھ وابستہ ہے اور مسلمانوں میں