مضامین بشیر (جلد 3) — Page 289
مضامین بشیر جلد سوم 289 بدقسمتی سے اس زمانہ کے گندے اور حیا سوز اثرات کے نتیجہ میں اس کے ساتھ بعض ایسی باتیں شامل کر دی گئی ہیں جو انتہا درجہ مخرب اخلاق اور دماغی آوارگی پیدا کرنے والی ہیں۔اس کی مثال یوں سمجھی جاسکتی ہے کہ جیسے مثلاً دودھ اور خوشبودار شربت بہت عمدہ اور نہایت فرحت بخش غذا ئیں ہیں۔لیکن کیا کوئی دانا شخص اس بات کو برداشت کرے گا کہ اسے دودھ یا شربت کا گلاس دیتے ہوئے اس کے اندر چند قطرے نجاست کے بھی ڈال دیئے جائیں۔حالانکہ ظاہر ہے کہ ایسے مرکب میں پھر بھی دودھ اور شربت کا ہی غلبہ رہتا ہے۔لیکن نجاست کے مل جانے سے ان کے متعلق نہ صرف انسانی فطرت بلکہ طبی سائنس کا فتویٰ بھی لازماً بدل جاتا ہے۔اور کوئی سمجھدار شخص یہ حجت پیش نہیں کر سکتا کہ یہ گلاس تو دودھ اور شربت کا گلاس ہے۔جو بہر حال مفید ہے اس لئے اس کا استعمال جائز ہونا چاہئے۔دراصل جہاں تک میں نے سوچا ہے۔موجودہ سینما میں منجملہ اور باتوں کے تین خاص باتیں ایسی ہیں جو اس کے مفید پہلوؤں پر پردہ ڈال کر اور اس کے فائدہ کے پہلو کو دبا کر اس کی مضرت اور نقصان کے پہلو کو بہت زیادہ غالب اور نمایاں کر دیتی ہیں اور انہی کی وجہ سے اس سے روکا جاتا ہے۔یہ باتیں مختصر طور پر یہ ہیں۔(1) پہلی بات یہ ہے کہ قطع نظر اس بات کے کہ کوئی فلم اپنی ذات میں اچھی ہے یا بُری۔خود سینما ہال کا اندرونی اور بیرونی ماحول۔اس کی ممنوعیت کی ایک واضح دلیل ہے۔میں دوسرے ممالک کے متعلق تو کچھ زیادہ کہہ نہیں سکتا۔لیکن کم از کم ہمارے ملک میں سینما ہال کا اندرونی اور بیرونی ماحول ایسی گندی صورت اختیار کر چکا ہے کہ کوئی با غیرت اور شریف انسان جو اپنی غیرت اور شرافت کے ساتھ ہوش مند اور بیدار مغز بھی ہو اپنے بچوں کو سینما جانے کی اجازت نہیں دے سکتا اور چونکہ والدین کے افعال کالا ز ما بچوں پر بھی اثر پڑتا ہے اس لئے ہر دانا شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس صورت میں ماں باپ کو خود بھی سینما جانے سے اجتناب کرنا چاہئے۔سینما کے ماحول کی خرابیاں اس ملک میں اتنی ظاہر اور عریاں ہو چکی ہیں اور اس کے متعلق آئے دن اخبارات میں اتنے چرچے رہتے ہیں کہ کوئی واقف کار شخص اس سے غافل نہیں رہ سکتا۔بد نظری اور اغوا اور مخش گوئی اور ہاتھا پائی اور مارکٹائی کے واقعات ہمارے ملک کے سینما ہالوں کے اندر اور باہر اس کثرت سے وقوع پذیر ہوتے ہیں کہ حق یہ ہے کہ بچے تو درکنار، شریف اور معمر والدین کو بھی ان سے پناہ مانگنی چاہئے۔یہ دلیل بے شک بظاہر ایک منفی قسم کی دلیل ہے۔لیکن ذیل کی دلیلوں سے مل کر اس کا وزن بھی اتنا بڑھ جاتا ہے کہ اسے کسی صورت میں نظر انداز