مضامین بشیر (جلد 3) — Page 285
مضامین بشیر جلد سوم 285 کو جواہمیت حاصل ہے وہ کسی پر پوشیدہ نہیں ہے۔ذی استطاعت احباب توجہ فرماویں۔خریداری کے لئے براہ راست ایڈیٹر بدرمحلہ احمدیہ قادیان مشرقی پنجاب کو لکھنا چاہئے اور رقم صیغہ امانت صدر انجمن احمد یہ ربوہ میں بھجوانی چاہئے۔( محرره 8 جون 1955 ء )۔۔۔۔۔۔روزنامه الفضل 12 جون 1955ء) پاگل خانہ کا عبرتناک منظر جسمانی لحاظ سے اَسْفَلَ سَافِلِینَ کا ہیبت ناک نظارہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر کسی کو موقع ملے تو پاگل خانہ ( جسے آجکل منفل ہسپتال کہا جاتا ہے ) اور جیل خانہ ضرور دیکھ لینے چاہئیں۔کیونکہ ان کے دیکھنے سے بعض خاص قسم کے معلومات میں اضافہ ہوتا ہے اور عبرت کا پہلو مزید برآں ہے۔اس نصیحت کے پیش نظر میں نے ایک دوست سے منعمل ہسپتال لاہور کے دیکھنے کی خواہش کی اور انہوں نے ازراہ مہربانی کل بروز جمعرات بتاریخ 30 جون اس کا انتظام فرما دیا بلکہ خود ساتھ ہو کر پاگل خانہ کے مختلف حصے دکھائے۔فَجَزَاهُ اللَّهُ خَيْراً حقیقتا یہ ہسپتال ایک بھاری عبرت گاہ ہے اور حکومت اس ادارہ پر کم و بیش دس لاکھ سالانہ خرچ کر کے ایک بہت عمدہ خدمت بجالا رہی ہے۔اس پاگل خانہ میں پاکستان کے ہر حصہ سے دماغی امراض کے مریض جمع ہیں۔پنجاب ،صوبہ سرحد، سندھ، بلوچستان، بہاول پور اور بنگال وغیرہ سب صوبوں کے مریض پائے جاتے ہیں۔جن کی تعداد قریباً ڈیڑھ ہزار ہے۔جن میں چار پانچ سو کے قریب عورتیں بھی شامل ہیں۔عورتوں کے حصہ میں تو ہم نہیں گئے۔مگر ہسپتال کے مردانہ حصہ کا ایک ایک چپہ مجسمہ عبرت تھا اور غالبا یہ اسی اثر کا نتیجہ تھا کہ مجھے اس کے بعد گزشتہ رات بالکل نیند نہیں آئی اور تمام رات بے خوابی میں گزری۔اس پاگل خانہ میں مختلف قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں۔بعض مالیخولیا میں مبتلا ہو کر خاموش بیٹھے رہتے ہیں۔گویا کہ وہ اس دنیا کی ہر چیز سے بیزار ہیں اور اپنے ماحول کی کسی چیز میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔بعض اوٹ پٹانگ تقریریں کرتے ہوئے ادھر اُدھر شور کرتے پھرتے ہیں اور کوئی سننے والا ہو نہ