مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 283 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 283

مضامین بشیر جلد سوم 283 الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُور الناس یعنی یہ طاقتیں صرف ظاہر میں ہی مومنوں کے ایمانوں کے لئے خطرہ کا باعث نہیں بنتیں۔بلکہ ان کا فتنہ لوگوں کے سینوں کی گہرائیوں میں بھی مہلک جراثیم بن کر ہلاکت کے بیج بوتا رہتا ہے۔ان الفاظ میں ان خطرناک اور زہر آلود اثرات کی طرف اشارہ ہے جو آج کل یورپ اور امریکہ کی مادی فضاؤں میں چھپے بیٹھے ہیں اور بغیر اس کے کہ کوئی شخص اس خطرہ کو محسوس کرے۔وہ ہر سانس کے ساتھ لوگوں کے سینوں میں روحانی سل کے جراثیم داخل کرتے جاتے ہیں۔چنانچہ خناس اس چیز کو کہتے ہیں جو عمو مالوگوں کی ظاہری نظر سے اوجھل رہ کر خفیہ رنگ میں ہلاکت کے بیج ہوتی ہے اور بالآخر فر ما تا ہے مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ یعنی یہ فتنہ پیدا کرنے والے لوگ عوام الناس میں سے بھی ہوں گے اور بڑے لوگوں میں سے بھی ہوں گے۔اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ ان دونوں قسم کے لوگوں کی طرف سے ہوشیار رہیں اور یہ خیال نہ کریں کہ فلاں لوگ چھوٹے ہیں۔ان کی طرف سے ہمیں کیا خطرہ ہوسکتا ہے۔یا فلاں لوگ بڑے ہیں انہیں ہمارے معاملات میں کیا دلچسپی ہو سکتی ہے۔بلکہ سب کی طرف سے ہوشیار رہیں۔کیونکہ اسلام وہ عظیم الشان نور ہے جس نے سارے دوسرے نوروں کو ماند کر رکھا ہے۔اس لئے ہر مذہب و ملت کے پیرو اس کے بجھانے کے لئے کمر بستہ ہیں۔پھر مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاس کے الفاظ میں موجودہ زمانہ کے نظام سرمایہ داری اور نظام اشتراکیت بھی مراد ہیں۔جنہوں نے دنیا میں باطل خیالات کا وسیع جال پھیلا کر اسلام کے لئے ایک بھاری خطرہ پیدا کر رکھا ہے اور ہمارے خدا کی یہ ہیبت ناک پیشگوئی بڑے زور دار رنگ میں پوری ہورہی ہے۔کہ حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ (الانبیاء: 97) لیکن یاد رکھنا چاہئے يَنْسِلُونَ(الانبياء:97)۔لیکن رکھنا کہ گوسرمایہ داری اور اشتراکیت یا دوسرے لفظوں میں یا جوج اور ماجوج ہر دوا سلام کے مخالف اور مسلمانوں کے لئے خطرہ کا موجب ہیں مگر یقیناً ان دونوں میں سے اشتراکیت کا نظام دہریت پر مبنی ہونے کی وجہ سے نیز خناسی اصولوں پر زیادہ عامل ہونے کی بناء پر زیادہ خطرناک ہے۔اس لئے جہاں ان دونوں کا آپس میں مقابلہ ہو گا وہاں طبعاً ہماری ہمدردی جمہوری طاقتوں کی طرف ہوگی۔خلاصه مضمون خلاصہ کلام یہ کہ قرآن مجید ایک نہایت درجہ عجیب و غریب کلام ہے۔جس کی ہر سورۃ اور ہر آیت اور ہر لفظ میں خدا کی خدائیت کا چہرہ نظر آرہا ہے اور اس کی وسیع اور عالمگیر عمارت کو ایسے رنگ میں مرتب کیا گیا ہے کہ اس کے شروع میں تو ایک عالی شان ڈیوڑھی رکھ دی گئی ہے۔جس میں قرآن مجید کے مضامین کا