مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 280 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 280

مضامین بشیر جلد سوم 280 معوذتین میں دو طاقتور تعویذ پیش کئے گئے ہیں اسلامی تعلیم کا یہ دوحرفی خلاصہ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں کو جو قر آنی تعلیم سے فارغ ہو کر دنیا میں قدم رکھ رہے ہوں۔دو طاقتور تعویز پیش کرتا ہے۔یہ اس طرح کا منظر ہے جس طرح کہ ایک محبت کرنے والی ماں اپنے کمزور بچوں کو کسی لمبے سفر پر روانہ کرتے ہوئے ان کے بازوؤں پر تعویذ باندھا کرتی ہے۔چنانچہ تعویذ کا لفظ ہی اَعُوذُ سے نکلا ہوا ہے۔جو قرآن کی ان دو آخری سورتوں کے شروع میں آتا ہے۔پہلا تعویذ جو دنیا کے مصائب اور ابتلاؤں سے تعلق رکھتا ہے۔سورہ فلق میں پیش کیا گیا ہے اور دوسرے تعویذ میں جو سورہ الناس کی تہوں میں لپٹا ہوا ہے۔دینی ابتلاؤں اور خطرات سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے اور ان دونوں سورتوں میں اَعُوذُ کے لفظ کے ساتھ قُل کا لفظ دو وجہ سے لگایا گیا ہے۔اول اس لئے کہ تا اس بات کی یاددہانی ہوتی رہے کہ یہ دعائیں صرف ایک دفعہ مانگ کر خاموش نہیں ہو جانا چاہئے۔بلکہ عمر بھر ما نگتے جانا چاہئے کیونکہ کئی خطرے ایسے ہو سکتے ہیں کہ تم خود بھی ان سے بے خبر رہو اور اس بے خبری میں ٹھوکر کھا جاؤ۔اس لئے ضروری ہے کہ ان دعاؤں کو دہراتے ہوئے خدا کے دامن سے ہر وقت لیٹے رہو تا کہ تمہاری زندگی اس کی دائگی پناہ میں گزرے۔دوسرے چونکہ دل کے معنے زبان حال سے کہنے کے بھی ہیں۔اس لئے قُلی کے لفظ میں یہ بھی اشارہ ہے کہ سچے مسلمانوں کو صرف منہ سے پناہ مانگنے پر ہی اکتفا نہیں کرنی چاہئے بلکہ اپنے عمل سے بھی خدا کی پناہ طلب کرتے رہنا چاہئے اور ایسے اعمال بجالانے چاہئیں جو خدا کی پناہ کے جاذب ہوں۔الْفَلَق دنیوی آلام کے مقابلہ کا تعویذ ہے سوره جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا ہے سورہ فلق دنیوی آلام اور خطرات سے تعلق رکھتی ہے۔فلق کے معنے اس صبح کے ہیں جو تاریکی کے پھٹنے اور سیاہ بادلوں کے چھٹنے کے نتیجہ میں نمودار ہوتی ہے۔اور اس میں اشارہ یہ ہے کہ اے مسلمانو! ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ تمہاری کمزوریوں اور بے بسیوں کا خاتمہ کر کے تمہارے لئے غیر معمولی ترقی اور سر بلندی کا رستہ کھولا ہے۔اور اب خدا کے فضل سے تمہارے سامنے روشنی ہی روشنی ہے۔مگر دیکھنا۔اس حالت پر تسلی پا کر غافل نہ ہو جانا۔کیونکہ خدائی مخلوق کے شریر عناصر ہمیشہ نیک لوگوں کو نقصان پہنچانے کے درپے رہتے ہیں۔اس لئے قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ - یعنی مخلوق کے شر کے خلاف اس خدا سے پناہ مانگتے رہو جس نے تمہاری سابقہ مصیبتوں کا