مضامین بشیر (جلد 3) — Page 281
مضامین بشیر جلد سوم 281 خاتمہ کر کے تمہارے لئے صبح کی سی راحت اور صبح کی سی ٹھنڈک پیدا کی ہے۔وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ اور اس تاریک رات سے بھی پناہ مانگو جس کا اندھیرا چاروں طرف چھا جاتا ہے اور اس بات سے ڈرتے رہو کہ روشنی کے بعد تاریکی پھر غلبہ پا جائے۔اس کے بعد فرمایاؤ مِن شَرِّ النَّفْثَتِ فِي الْعُقَدِ یعنی ان لوگوں کے شرسے بھی خدا کی پناہ مانگو جوتمہاری اخوت کی پاکیزہ گر ہوں میں فتنہ کی پھونکیں مار مار کر فرقہ پیدا کرنا چاہتے ہیں اور تمہارے اندر پھوٹ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔اسی طرح جو معاہدات تم نے غیر قوموں کے ساتھ کئے ہوئے ہیں ان میں بھی شریر لوگ فتنہ پردازی کا رخنہ پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ان کے متعلق بھی چوکس اور ہوشیار رہو اور بالآخرفرمایاوَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ یعنی تمہاری غیر معمولی ترقی کو دیکھ کر حاسدلوگ تمہیں نقصان پہنچانا چاہیں گے اور اپنے حسد کی آگ میں تمہیں بھی بھسم کرنے کی کوشش کریں گے۔تم ان کے حسد کے خلاف بھی خدا کی پناہ ڈھونڈتے رہو۔کیونکہ تمہارا خدا وہ طاقتور ہستی ہے جس کی پناہ کے مقابل پر کسی مخلوق کا شر اور کسی مصیبت کا اندھیرا اور کسی فتنہ پرداز کا فتنہ اور کسی حاسد کا حسد ایک مردہ کیڑے کی بھی حیثیت نہیں رکھتے۔مگر شرط یہ ہے کہ جیسا کہ قل کے لفظ میں اشارہ ہے۔تم صرف منہ سے ہی خدا کی پناہ نہ مانگو۔بلکہ اپنے عمل اور کردار سے بھی اس کی پناہ کے طالب رہو اور تمہارا ہر قول اور ہر فعل اس بات کی شہادت دے کہ تم واقعی اور سچ مچ خدا کی پناہ میں ہو۔اسی قسم کی پناہ کے متعلق حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں کہ جب ایسے لوگوں کو ان کے دشمن تنگ کرتے اور ستاتے ہیں اور انہیں تباہ کرنے کے درپے ہوتے ہیں تو خدا کی غیرت جوش میں آتی ہے اور وہ ان کی مدد کے لئے فوراً آگے آجاتا ہے۔اور بقول حضرت مسیح موعود۔ے کہتا ہے یہ تو بندہ عالی جناب ہے مجھ سے لڑو اگر تمہیں لڑنے کی تاب ہے سورہ فلق میں جو فلق کا لفظ ہے اس کے معنی صبح کے علاوہ جملہ مخلوق اور کائنات عالم کے بھی ہیں۔اسی طرح غاسق کے معنی اندھیرا کرنے والی رات کے علاوہ چاند کے بھی ہیں۔اور وَقَبَ کے معنی گرہن لگنے کے بھی ہیں۔اس لحاظ سے آیات کے معنی مناسب رنگ میں بدل جائیں گے مگر سورۃ کا مجموعی مال بہر حال وہی رہے گا۔سورۃ الناس ایمانی خطرات کا تعویذ ہے قرآن مجید کی آخری سورۃ ، سورۃ الناس ہے۔یہ سورۃ دینی ابتلاؤں اور دینی لغزشوں کے مقابلہ کے