مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 279 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 279

مضامین بشیر جلد سوم 279 گا۔اس اعلان میں بظاہر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا ذکر شامل نہیں کیا گیا۔لیکن یہ بات ادنیٰ تامل سے ظاہر ہوسکتی ہے کہ ایسے پیغامبر کا وجود جس نے پیغام والی تعلیم کے لئے نمونہ بنا ہوکسی صورت میں نفس پیغام سے الگ نہیں سمجھا جا سکتا۔اس لئے دوسرے مقامات پر آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے کامل تو حید کے تصور میں اپنی رسالت پر ایمان لانے کے عقیدہ کو بھی شامل قرار دیا ہے اور یہی وہ نظریہ ہے جو سورہ اخلاص والے خلاصہ میں مد نظر رکھا گیا ہے۔گویا ہر قرآن خوان کو خدا تعالی تلاوت ختم کرنے سے قبل جھنجھوڑ جھنجوڑ کر سناتا ہے کہ تم نے قرآن ختم کر لیا۔اب یاد رکھنا کہ اللهُ اَحَدٌ یعنی اسلام کا خلاصہ کامل تو حید ہے جو ہر قسم کے شرک فی الذات اور شرک فی الصفات کی ملونی سے پاک ہونی چاہئے۔جو خدا تعالیٰ کو صمد یعنی کائنات عالم کا ایسا مرکزی نقطہ قرار دے جو نہ صرف ہر چیز سے غنی اور ہر بیرونی سہارے سے آزاد ہو بلکہ ہر حاجت مند اس کی طرف جھکنے اور اس کی مدد حاصل کرنے کے لئے مجبور ہو۔وہ لَمْ يَلِدْ اور لَمْ يُولَدُ ہو۔یعنی نہ تو وہ غیر ابدی ہونے کی وجہ سے اپنی الوہیت کسی اور کو ورثے میں دینے کے لئے مجبور ہو اور نہ اس نے غیر از لی ہونے کی وجہ سے کسی اور سے یہ ورثہ پایا ہواور پھر وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ ہو یعنی نہ وہ ایسا ہو کہ اس کے پہلوؤں میں اس کا کوئی شریک اور ہم پلہ وجود موجود ہو۔یہ وہ کامل تو حید ہے جو قرآن نے ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سکھائی ہے اور دنیا کی کوئی اور قوم اور کوئی اور امت اس کی نظیر پیش نہیں کر سکتی۔اس میں نہ صرف عام بت پرستوں اور مشرکوں کا رڈ ہے بلکہ ان مذاہب کا بھی رڈ ہے جو تو حید کی آڑ میں عملاً شرک کی تعلیم دیتے ہیں۔عیسائیوں نے مسیح کو خدا کا بیٹا بنا رکھا ہے اور پھر بھی تو حید کے مدعی بنتے ہیں۔یہودیوں نے عملاً اپنے ربیوں کو خدا کا درجہ دے رکھا ہے اور پھر بھی موحد کہلانا پسند کرتے ہیں۔ہندوؤں نے ہزاروں لاکھوں بت تراش کر ان سے حاجت براری شروع کر رکھی ہے اور پھر بھی کہتے ہیں کہ یہ بت تو خدا نہیں بلکہ صرف خدا کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔یہ سب مشرکانہ خیالات ہیں جن سے اسلام کے سوا کسی مذہب کا دامن پاک نہیں۔اس لئے قرآن کے اختتام پر خدا اپنے بندوں کو یاد دہانی کراتا ہے کہ ہم نے تمہیں ایسی تعلیم دی ہے کہ جو ہر قسم کے شرک کی ملونی سے پاک ہے اور ہمارے رسول نے تمہیں اپنی تربیت کے ذریعہ کامل توحید پر قائم کر دیا ہے۔اب دنیا میں قدم رکھتے ہوئے ہوشیار رہنا اور اپنی زبانوں کو اس ورد سے تروتازہ رکھنا کہ اللهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَد یعنی خدا ہر جہت اور ہر لحاظ سے ایک ہے۔اپنی ذات میں ایک اور اپنی صفات میں ایک۔وہ کسی کا محتاج نہیں۔مگر ہر دوسری چیز اس کی محتاج ہے۔