مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 274 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 274

مضامین بشیر جلد سوم 274 قرآن مجید کی عالی شان ڈیوڑھی اور بے مثال عقبی دروازہ سورہ فاتحہ، سورہ اخلاص اور معوذتین کی اصولی تفسیر قرآن مجید جو اس دنیا کے لئے خدا کی آخری شریعت ہے ایک ایسا بے نظیر کلام ہے کہ اس پر جتنا بھی غور کیا جائے اتنی ہی اس کی گونا گوں خوبیاں اجاگر ہو کر آنکھوں کے سامنے ابھرنی شروع ہو جاتی ہیں اور مطالعہ کرنے والا انسان یوں محسوس کرتا ہے کہ وہ ایک ایسی عجیب و غریب کان میں داخل ہو گیا ہے جس کے اندر جدھر بھی جا نکلورنگ برنگ کے روحانی اور علمی جواہرات آنکھوں کو خیرہ کئے دیتے ہیں۔مگر جس طرح ہر لطیف چیز لوگوں کی نظر سے اوجھل رہتی ہے بلکہ کوئی چیز جتنی زیادہ لطیف ہوتی ہے اتنی ہی اسے قدرت زیادہ مخفی رکھتی ہے۔اسی طرح قرآن مجید کی خوبیاں بھی ہر شخص پر ظاہر نہیں ہوتیں۔بلکہ صرف اس شخص پر ظاہر ہوتی ہیں جو ایک طرف صحت نیت کے ساتھ اور دوسری طرف پوری پوری کوشش کے ساتھ اس کی گہرائیوں میں غوطہ لگاتا اور اپنے اندر ایسی طہارت نفس پیدا کرتا ہے جو الہی کلام کے سمجھنے کے لئے ضروری ہے۔بلکہ حق یہ ہے کہ قرآن مجید کے جو حصے بظاہر مغلق اور الجھے ہوئے نظر آتے ہیں۔بالعموم وہ حصے ہوتے ہیں جن میں خدا کا کلام غیر معمولی طور پر زیادہ بلند اور زیادہ لطیف ہوتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ قرآن کریم کی جن آیات پر مخالفوں کی طرف سے زیادہ اعتراض کیا جاتا ہے وہ خاص روحانی اور علمی خزانوں پر مشتمل ہوتی ہیں اور چونکہ ان آیات پر فرشتوں کا خاص پہرہ ہوتا ہے اس لئے شیطانی طاقتیں ان تک نہیں پہنچ سکتیں اور جب لوگ ان کی حقیقت کو نہیں سمجھتے تو لازما اعتراض کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید کو گہرے نفسیاتی اصول پر مرتب کیا گیا ہے انہی اعتراضوں میں سے ایک اعتراض قرآن مجید کی ترتیب کے متعلق ہے۔معترضین کہتے ہیں کہ قرآنی آیات میں نزول کی ترتیب کو چھوڑ کر نہ صرف اس کی تاریخی حیثیت کو تباہ کر دیا گیا ہے بلکہ اسے ایک بالکل ہی غیر مرتب اور غیر مربوط صورت دے دی گئی ہے۔گویا کہ وہ ایک ایسی دوکان ہے جس کا سامان بغیر کسی ترتیب کے ادھر اُدھر بکھرا پڑا ہے۔اس اعتراض کا پہلا جواب تو یہی ہے کہ اگر غور کیا جائے تو نزول کی ترتیب کو بدلنا ہی اپنی ذات میں اس بات کی دلیل ہے کہ خواہ ہمیں سمجھ آئے یا نہ آئے ، قرآن میں کوئی نہ کوئی