مضامین بشیر (جلد 3) — Page 268
268 مضامین بشیر جلد سوم کے ساتھ زمین کی طرف اُترتے ہیں اور ہر اس بندے پر جو دعا اور ذکر الہی میں مصروف ہو اپنی خاص رحمتوں اور برکتوں کا چھینٹا ڈالتے جاتے ہیں۔اور یہی وہ مبارک رات ہے جس کے متعلق قرآن مجید فرماتا ہے کہ۔لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍة تَنَزَّلُ الْمَلَئِكَةُ وَالرُّوْحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرِه سَلْمٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِهِ القدر: 6:4) یعنی لیلۃ القدر کی برکت ایک ہزار مہینہ سے بھی زیادہ ہے۔اس میں خدا کے حکم سے فرشتے خدا کا کلام ہر قسم کی برکتیں لے کر زمین پر نازل ہوتے ہیں اور یہ رات مجسم سلامتی کا رنگ رکھتی ہے اور اس کا وقت صبح صادق تک چلتا ہے۔اس آیت میں من جملہ اور معنوں کے ہزار مہینہ سے انسان کی طرف اشارہ کرنا بھی مقصود ہے۔جو اوسط کے لحاظ سے زیادہ سے زیادہ تر اسی سال تک پہنچتی ہے اور اس صورت میں مراد یہ ہے کہ اگر کسی انسان کولیلۃ القدر کی برکات کامل طور پر میسر آجائیں تو بسا اوقات ان کا وزن اس کی بقیہ عمر کی عام برکات سے بھی بڑھ جاتا ہے۔الغرض رمضان کا آخری عشرہ اور پھر اس عشرہ میں لیلۃ القدر کا زمانہ بہت ہی مبارک زمانہ ہے جس سے دوستوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہئے۔خدا تعالیٰ کی مصلحت نے اس رات کو معین صورت میں ظاہر نہیں فرمایا۔البتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر فرمایا کرتے تھے کہ اسے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو اور ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی فرماتے ہیں کہ۔الْتَمَسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ ( صحیح مسلم کتاب فضل ليلة القدر والحث على طلبها ) یعنی لیلتہ القدر کو انیسویں اور ستائیسویں اور پچسیویں رات میں تلاش کرو۔اسی تعلق میں بعض اوقات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ اگر رمضان کی ستائیسویں تاریخ کو جمعہ ہو تو یہ رات عموما لیلۃ القدر ہوتی ہے۔جس میں خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی بہت زیادہ دعائیں قبول کرتا ہے۔یہ گویا خدا تعالیٰ کے دربار عام کا وقت ہوتا ہے جس میں ہر مومن کو دعوت دی جاتی ہے کہ آؤ اور مانگو۔آؤ اور مانگو۔پھر آؤ اور مانگو۔لیکن بایں ہمہ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اسلام ہرگز کسی منتر جنتر کے اصول کا قائل نہیں ہے کہ ادھر پھونک ماری اور اُدھر کام ہو گیا اور نہ وہ اس بات کا قائل ہے کہ کسی خاص وقت میں ایسی تاثیر رکھی گئی ہے کہ اس میں ہر شخص کی ہر دعا لازما قبول ہو جاتی ہے اور گویا نعوذ باللہ خدا حاکم کی