مضامین بشیر (جلد 3) — Page 269
مضامین بشیر جلد سوم 269 کرسی سے اتر کر محکوم بن جاتا ہے۔پس جب یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں وقت ایسا بابرکت ہے کہ اس میں مومنوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں تو اس سے مراد صرف یہ ہوتی ہے کہ ایسے وقت میں جود عا اپنے لوازمات اور شرائط کے ساتھ کی جائے وہ دوسرے اوقات کی نسبت بہت زیادہ قبول ہوتی ہے۔بعض لوگ پوچھا کرتے ہیں کہ لیلۃ القدر کی علامت کیا ہے۔اس کے متعلق جاننا چاہئے کہ گوبعض احادیث میں یہ ذکر آتا ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو ایک دفعہ لیلتہ القدر دکھائی گئی ہے اور اس میں آپ نے آسمان سے پانی برستے دیکھا اور قدرت خداوندی سے اس رات ظاہر میں بھی بارش ہوگئی۔مگر اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ ہر لیلتہ القدر کے لئے یہ ظاہری علامت ضروری ہے۔بلکہ محققین نے اس علامت کو اس رات کے ساتھ مخصوص قرار دیا ہے جس کے متعلق آپ نے یہ نظارہ دیکھا تھا۔لیکن چونکہ بارش خدا کی رحمت کی نشانی ہے اس لئے اگر اور راتوں میں بھی یہ علامت ظاہر ہو جائے تو اسے خدا کا فضل سمجھنا چاہئے۔لیکن لیلتہ القدر کی اصل علامت انسان کے قلب سے تعلق رکھتی ہے اور بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ دعا کرنے والے کا دل اپنے اندرونی شعور سے محسوس کر لیتا ہے کہ یہ دعا کی خاص قبولیت کا وقت ہے اور ویسے بھی یہ بات خدا کی عام سنت سے بعید ہے کہ وہ ایک ایسی علامت مقرر کر دے جو ہر کس و ناکس آسانی کے ساتھ سمجھ لے۔خدا کے ہر کام میں ایک حد تک اخفا کا پردہ ہوتا ہے اور خدا کا یہ بھی منشاء ہے کہ لوگ ایک مخصوص وقت پر تکیہ کرنے کی بجائے دعا کے خاص اوقات کو اسی طرح جدوجہد کے ساتھ تلاش کریں جس طرح سونے کی کانوں میں کام کرنے والے دریاؤں کی تہوں میں یا زمین کی گہرائیوں میں سونے کے ذرات تلاش کرتے ہیں۔آخری سوال یہ ہے کہ اگر کسی کو لیلتہ القدر میسر آئے تو وہ کیا دعا کرے۔بعض حدیثوں میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ اگر تم لیلتہ القدر کو پاؤ تو خدا سے یہ دعا مانگو كه اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْتُ عَنِّى ( سنن ابن ماجہ کتاب الدعاء بابُ الدُّعَاءِ بِالْعَفُو وَالْعَافِيَةِ ) یعنی اے میرے آقا! تو بہت بخشش کرنے والا ہے اور اپنے بندوں کو بخشنے سے خوش ہوتا ہے۔پس میرے گناہ بھی بخش۔اس حدیث سے بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ وہ اس دعا پر لیلۃ القدر کی دعا کو مصر کر لیتے ہیں اور اس طرح ایک بہت بڑی خیر سے محروم ہو جاتے ہیں۔حالانکہ اس دعا کی تعلیم دینے سے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ اور دعائیں نہ کی جائیں بلکہ صرف اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنا مقصود تھا کہ جس طرح خوشیوں کے دربار میں بادشاہ