مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 267 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 267

مضامین بشیر جلد سوم وَاخِر دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ ( محرره 4 مئی 1955 ء)۔۔۔۔۔۔۔۔267 ( روزنامه الفضل 7 مئی 1955ء) 1 لیلۃ القدر کی مخصوص برکات دوست رمضان کے آخری عشرہ میں خاص دعاؤں سے کام لیں میں نے رمضان کے شروع میں دوستوں کو رمضان کے مہینہ میں دعاؤں اور نوافل اور صدقہ و خیرات کی طرف توجہ دلائی تھی اور اب چونکہ رمضان کا آخری عشرہ قریب آ رہا ہے اس لئے اس مختصر نوٹ کے ذریعہ اس عشرہ کی برکات اور لیلۃ القدر کے خاص الخاص فیوض کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔تا ہمارے دوست ان ایام کی مخصوص برکات سے فائدہ اٹھا کر اپنے لئے دین و دنیا میں ترقی کا راستہ کھول سکیں۔سو جاننا چاہئے کہ گورمضان کا سارا مہینہ ہی خاص برکات کا مہینہ ہے۔لیکن حدیث سے ثابت ہے کہ رمضان کے آخری عشرہ کو اپنی برکات اور فیوض کے لحاظ سے رمضان کے دوسرے ایام کی نسبت زیادہ ممتاز مقام حاصل ہے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آپ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ۔إِذَا دَخَلَ الْعَشَرَ شَدَّ مِيُزَرَهُ وَأَحْي لَيْلَهُ وَ أَيْقَظَ أَهْلَهُ ( بخاری کتاب الصوم) یعنی جب آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں داخل ہوتے تھے تو اپنی کمر کس لیتے تھے اور عبادت اور ذکر الہی کی کثرت سے اپنی راتوں کو گویا زندہ کر دیتے تھے اور اپنے ساتھ اپنے اہل کو بھی عبادت کے لئے جگاتے تھے۔یہ وہی مبارک عشرہ ہے جس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس میں ایک ایسی رات آتی ہے کہ جب خدا اور اس کے فرشتے اپنی گونا گوں رحمتوں کے ساتھ بندوں کے بہت زیادہ قریب ہو جاتے ہیں۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ اس رات حضرت جبرائیل فرشتوں کی ایک جماعت