مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 262 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 262

مضامین بشیر جلد سوم 262 کہ قرآن مجید میں ایک جگہ اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فدا نفسی ) کوارشاد فرماتا ہے کہ قل يعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللهِ (الزمر: 54) مگر یہ آنحضرت صلےاللہ علیہ وسلم کی ارفع شان کے پیش نظر ایک استعارہ کے رنگ کا کلام ہے جس میں عبد سے مراد غلام ہے نہ کہ حقیقی عبد۔یہی وجہ ہے کہ دو سال ہوئے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ سالانہ کے بعد بعض نکاحوں کا اعلان کرتے ہوئے امتہ البشیر کے نام کے متعلق اعتراض فرمایا تھا کہ یہ مشر کا نہ نام ہے۔جسے بدل دینا چاہئے۔بہر حال حقیقی عبودیت کی نسبت صرف خدا کی طرف ہوسکتی ہے اور یہی تو حید باری تعالیٰ کا تقاضا ہے جس پر ہمارے دوستوں کو مضبوطی کے ساتھ قائم رہنا چاہئے۔(محررہ 13 مئی 1955ء) روزنامه الفضل 22 مئی 1955ء) 20 چندوں کے متعلق جماعت کی اہم ذمہ داری مالی خدمت، دین کا نصف حصہ ہے حضرت خلیفتہ اسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سفر یورپ پر تشریف لے جانے سے قبل میاں عبدالحق صاحب رامہ کو جو حال ہی میں مرکزی حکومت پاکستان کے ایک معزز عہدہ سے ریٹائر ہوئے ہیں محترمی خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب کی جگہ ( جو بیماری کی وجہ سے فارغ ہو گئے ہیں ) ناظر بیت المال مقرر فرمایا ہے اور رامہ صاحب نے اپنے نئے عہدہ کا چارج لے کر مجھ سے خواہش کی ہے کہ میں جماعت کو چندوں کی ذمہ داری کے متعلق توجہ دلاؤں۔سو میں امید کرتا ہوں کہ احباب جماعت اور کارکنانِ جماعت رامہ صاحب کے ساتھ پورا پورا تعاون کر کے اس مقدس کشتی کو آگے چلانے میں ان کا ہاتھ بٹائیں گے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی تنظیم کے ماتحت خدا تعالیٰ نے جماعت کے سپر دفرمائی ہے۔میرا ہمیشہ سے یہ خیال رہا ہے کہ اس زمانہ میں خصوصاً اور ویسے عموماً مالی خدمت، دین کا نصف حصہ ہے۔اسی لئے قرآن مجید نے اپنی ابتداء میں ہی جو صفت متقیوں کی بیان فرمائی ہے اس میں ان کی ذمہ داریوں