مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 263 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 263

مضامین بشیر جلد سوم 263 کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ الَّذِيْنَ يُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ یعنی متقی تو وه ہیں جو ایک طرف تو خدا کی محبت میں اس کی عبادت بجالاتے ہیں اور دوسری طرف اپنے خدا دا د رزق سے دین کی خدمت میں خرچ کرتے ہیں۔اس اہم آیت میں گویا دینی فرائض کا پچاس فیصدی حصہ انفاق فی سبیل اللہ کو قرار دیا گیا ہے۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید نے جہاں جہاں اعمال صالحہ کی تلقین فرمائی ہے وہاں ہر مقام پر لازماً صلوٰۃ اور زکوۃ کو خاص طور پر نمایاں کر کے بیان کیا ہے۔اسی طرح موجودہ زمانہ میں چندوں کی اہمیت اس بات سے بھی ثابت ہے کہ جہاں خدا تعالیٰ نے سورہ کہف میں ذوالقرنین کا ذکر فرمایا ہے وہاں اس کی زبان سے یہ الفاظ کہلوائے ہیں کہ اتُونِي زُبَرَ الحَدِيدِ یعنی اے لوگو! مجھے دھات کے ٹکڑے لا کر دو۔تا میں تمہارے مخالفوں کے حملہ کے خلاف ایک مضبوط دیوار کھڑی کر دوں۔اس جگہ استعارہ کے طور پر دھات کے ٹکڑوں سے چاندی سونے کے سکے مراد ہیں جو دین کے کاموں کو چلانے کے لئے ضروری ہیں۔اور سب دوست جانتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے صراحت فرمائی ہے کہ بے شک گزشتہ زمانہ میں بھی کوئی ذوالقرنین گزرا ہو گا۔مگر اس زمانہ میں پیشگوئی کے رنگ میں ذوالقرنین سے مسیح موعود یعنی میں خود مراد ہوں۔جو دجالی طاقتوں کے مقابلہ کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں۔اس لئے آپ نے چندوں کے بارے میں اتنی تاکید فرمائی ہے کہ ایک اشتہار کے ذریعہ اعلان فرمایا کہ جو شخص احمدیت کا عہد باندھ کر پھر تین ماہ تک الہی سلسلہ کی خدمت کے لئے کوئی چندہ نہیں دیتا۔اس کا نام بیعت کنندگان کے رجسٹر سے کاٹ دیا جائے گا۔اسی طرح حضرت خلیفہ مسیح الثانی بھی چندوں کی ادائیگی کے متعلق انتہائی تا کید فرماتے رہتے ہیں اور اس بارے میں بسا اوقات اتنی گھبراہٹ کا اظہار فرماتے ہیں کہ بعض اوقات میرے دل میں خیال گزرتا ہے کہ جب خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُوحِي إِلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ تو پھر تحریک اور تاکید تو بے شک بجا ہے مگر حضرت صاحب اتنی گھبراہٹ کا اظہار کیوں فرماتے ہیں؟ لیکن پھر ایسے موقع پر مجھے غزوہ بدر کا وہ واقعہ یاد آ جاتا ہے جب خدائی وعدہ کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اتنی گھبراہٹ اور بے چینی کی حالت میں دعا فرماتے تھے کہ آپ کی چادر مبارک آپ کے کندھوں سے گر گر جاتی تھی اور حضرت ابو بکر آپ کی تکلیف کا خیال کر کے آپ سے عرض کرتے تھے کہ حضور ! جب خدا کا وعدہ ہے کہ وہ نصرت فرمائے گا اور غلبہ دے گا تو آپ اتنے گھبراتے کیوں ہیں ؟ مگر رسول اللہ جانتے تھے کہ اگر ایک طرف