مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 256 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 256

مضامین بشیر جلد سوم 256 فضاء میں گویا خدا کی طرف اُڑنا شروع ہو جاتا ہے اور دوسری طرف خدا کے فرشتے آسمان سے نیچے اتر کر بندے کی پرواز کو اپنے پروں کی مدد سے اور زیادہ تیز کر دیتے ہیں جو خاص عبادتیں رمضان کے لئے مقرر کی گئی ہیں اور وہ گویا رمضان کے مہینہ کی زینت ہیں۔وہ یہ ہیں۔(1) سب سے پہلی عبادت خود روزہ ہے یعنی مسنون طریق پر خدا کی خاطر مقررہ اوقات میں کھانے پینے اور بیوی سے مباشرت کرنے سے پر ہیز کرنا۔روزہ گویا اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ بندہ زبانِ حال سے خدا سے عرض کرتا ہے کہ اے میرے آقا! میں نہ صرف اپنی ذاتی زندگی بلکہ اپنی نسل کی زندگی بھی تیرے راستہ میں قربان کرنے کے لئے پیش کرتا ہوں۔میں تیرے حکم کے ماتحت کھانے پینے سے الگ رہوں گا جس پر میری ذاتی زندگی کا انحصار ہے اور میں اپنی بیوی کے پاس بھی نہیں جاؤں گا جس پر میری نسل کا دار و مدار ہے۔جب ایک مومن کچی نیت کے ساتھ یہ قربانی پیش کرتا ہے تو حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل کی قربانی کی طرح اللہ تعالیٰ اسے ایک ذبح عظیم کے ذریعہ نوازتا ہے اور بندے نے جو چیز خدا کی خاطر کاٹی تھی وہ اسے اپنے ہاتھوں سے جوڑتا ہے۔یہ ایک بہت بڑا انعام ہے۔کاش دنیا اس انعام کی حقیقت کو سمجھے۔روزہ کے روحانی پہلو کو نمایاں کرنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی فرماتے ہیں کہ جو شخص ظاہر میں تو روزہ رکھتا ہے مگر روزہ میں منکرات اور خواہش سے پر ہیز نہیں کرتا۔اس کا روزہ خدا کے نزدیک کوئی روزہ نہیں۔(2) دوسری عبادت جو رمضان کے ساتھ وابستہ کی گئی ہے۔وہ تہجد کی نماز ہے۔یوں تو اسلام نے ہر زمانہ میں ہی تہجد کی نماز کی تلقین کی ہے مگر رمضان کے مہینہ میں اس پر خاص زور دیا گیا ہے اور رمضان میں اس عبادت کو مزید برکت اس رنگ میں ودیعت کی گئی ہے کہ رمضان میں تہجد کی نماز کو انفرادی طور پر ادا کرنے کی بجائے باجماعت رنگ میں بھی ادا کرنے کی تحریک کی گئی ہے اور اس کی برکت کو وسیع کرنے کے لئے مزید سہولت یہ دی گئی ہے کہ آخر شب کی بجائے وہ شروع شب میں بھی ادا کی جاسکتی ہے تا کہ اس میں لوگ زیادہ سے زیادہ تعداد میں شریک ہو سکیں۔رمضان میں تہجد کی نماز عرفاتر اویح کی نماز کہلاتی ہے۔اور تہجد کی نماز کی وہ شان ہے جس کے متعلق قرآن مجید فرماتا ہے کہ وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةٌ لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا (بنی اسرائیل (80) یعنی اے رسول ! تم اور تمہارے پیرو، رات کے قریب نیند سے بیدار ہو کر نماز تہجد ادا کرو۔اس سے امید ہے کہ تم اپنے مقام محمود کو پہنچ جاؤ گے۔یاد رکھنا چاہئے کہ ہر شخص کا مقام محمود جدا جدا ہوتا ہے۔جو اسے اس کے نظری قومی اور اس کے اعمال صالحہ کے مطابق